تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 862

تذکار مہدی — Page 286

تذکار مهدی ) 286 روایات سیّد نا محمود زمانہ تو بہت دُور کی بات ہے ہم تو دیکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض ایسے نشانات دکھائے ہیں جن میں کشفی نگاہ رکھنے والوں نے اللہ تعالیٰ کے انوار کو ظاہر شکل میں بھی متمثل دیکھا اور اس کے روحانی کیف سے لطف اندوز ہوئے۔چنانچہ 1904ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لاہور تشریف لے گئے تو وہاں ایک جلسہ میں آپ نے تقریر فرمائی ایک غیر احمدی دوست شیخ رحمت اللہ صاحب وکیل بھی اُس تقریر میں موجود تھے۔وہ کہتے ہیں دوران تقریر میں میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سر سے نور کا ایک ستون نکل کر آسمان کی طرف جا رہا تھا۔اُس وقت میرے ساتھ ایک اور دوست بھی بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے انہیں کہا دیکھو وہ کیا چیز ہے انہوں نے دیکھا تو فوراً کہا کہ یہ تو نور کا ستون ہے جو حضرت مرزا کے سر سے نکل کر آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔اس نظارہ کا شیخ رحمت اللہ صاحب پر ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے اُسی دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر لی۔( تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 121-120 ) معجزہ قبولیت دعا دوسری مثال آپ کے معجزات میں سے میں ایسے بیماروں کے اچھا کرنے کے متعلق بیان کرتا ہوں جوطبی طور پر لاعلاج سمجھے جاتے ہیں اور وہ یہ ہے ایک لڑکا کئی ہزار میل سے یعنی حیدر آباد دکن کے علاقہ یاد گیر سے اس مدرسہ میں پڑھنے کے لئے آیا جسے آپ نے اپنی جماعت کے لڑکوں کے لئے جاری کیا تھا اور غرض یہ تھی کہ اس مدرسہ میں جولڑ کے تعلیم حاصل کرنے کے لئے آویں گے ان کی دینی تعلیم بھی ساتھ ساتھ ہوتی چلی جائے گی۔اس لڑکے کا نام عبد الکریم تھا اسے اتفاقاً باؤلے کتے نے کاٹ لیا اور اسے علاج کے لئے کسولی بھیج دیا گیا مگر وہ وہاں سے واپس آیا تو اسے دیوانگی کا دورہ ہو گیا اور شیخ پڑنے لگا اور حالت خراب ہوگئی۔کسولی تار دیا گیا کہ اب اس کے لئے کیا کیا جائے؟ مگر وہاں کے ڈاکٹر نے تار میں جواب دیا کہ افسوس عبدالکریم کے لئے اب کچھ نہیں ہوسکتا۔Sorry Nothing can be Done for Abdul Karim حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کا بہت صدمہ ہوا کہ بچہ جس کی ماں بیوہ ہے اور اس نے نہایت شوق سے اس قدر فاصلہ سے دین کی خاطر اس کو یہاں بھیجا ہے اس طرح ضائع ہو