تذکار مہدی — Page 285
تذکار مهدی ) 285 روایات سید نا محمود آپ پر ایمان لانے کے لئے تیار ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں خط لکھا کہ آپ اُن جنوں کو یہ پیغام پہنچا دیں کہ ایک عورت کو کیوں ستاتے ہوا گر ستانا ہی ہے تو مولوی محمد حسین بٹالوی یا مولوی ثناء اللہ کو جا کر ستائیں ایک غریب عورت کو تنگ کرنے سے کیا فائدہ؟ تو ایسے جن کوئی نہیں ہوتے جن کو عام لوگ مانتے ہیں۔بیشک کئی ایسے لوگ بھی ہوں گے جو انگریزی تعلیم کے ماتحت پہلے ہی اس امر کے قائل ہوں لیکن مؤمن کے سامنے اصل سوال یہ نہیں ہوتا کہ اُس کی عقل کیا کہتی ہے بلکہ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ قرآن کریم کیا کہتا ہے۔اگر قرآن کہتا ہو کہ جن ہوتے ہیں تو ہم کہیں گے آمَنَا وَصَدَّقْنَا اور اگر قرآن سے ثابت ہو کہ انسانوں کے علاوہ جن کوئی مخلوق نہیں تو پھر ہمیں یہی بات ماننی پڑے گی۔( تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 363) نائی کی جراحی سے آرام ایک شخص کی لات میں کچھ خرابی واقع ہو گئی اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کولکھا کہ میں نے ہر چند علاج کیا کہ آرام آجائے مگر نہ آیا۔اب ڈاکٹر کہتے ہیں لات کٹوا ڈالو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اپنی طرف سے پوری کوشش کرنی چاہئے کہ بیچ سکے اگر ڈاکٹروں سے فائدہ نہیں ہوا تو اب کچھ دیر کسی نائی سے جو جراحی کا کام کرتا ہو علاج کرا کر دیکھیں شاید اسی سے ہی فائدہ ہو جائے۔چھ سات ماہ کے بعد اس شخص نے لکھا کہ آپ کے مشورہ سے یہ فائدہ ہوا کہ لات کٹنے سے بچ گئی اور اب درست ہوگئی ہے۔اس میں شک نہیں کہ کبھی ایسی بھی ضرورت آپڑتی ہے کہ کوئی عضو کاٹ دیا جائے اور چونکہ زندگی کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔اس لئے اگر کاٹنا پڑ جائے تو حرج بھی نہیں کیونکہ ایک عضو کے بالمقابل ایک جان کی بہت قیمت ہے اس لئے اس جان کے بچانے کے لئے بعض دفعہ عضو کاٹ دیا جا سکتا ہے۔( خطبات محمود جلد 10 صفحہ 54 ) جسم سے نور کی شعائیں یہ خیال کہ کسی انسان کے جسم سے ایسی شعاعیں کس طرح نکل سکتی ہیں جو دوسروں کو بھی نظر آجائیں صرف اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ لوگ اِس نشان کو ظاہر پر محمول کر لیتے ہیں۔اگر وہ سمجھتے کہ یہ ایک کشفی واقعہ ہے تو اس قسم کے وساوس بھی اُن کے دل میں پیدا نہ ہوتے۔موسیٰ کا