تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 862

تذکار مہدی — Page 279

تذکار مهدی ) 279 روایات سید نا محمود یہ حضرت خلیفہ اول کے سالے اور منشی احمد جان صاحب کے بیٹے ہیں، منشی احمد جان صاحب کو خدا تعالیٰ نے ایسی بصیرت عطا کی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ابھی دعویٰ مسیحیت بھی نہیں کیا تھا کہ انہوں نے حضور کو لکھا: ہم مریضوں کی ہے تمہی نگاه تم مسیحا بنو خدا کے لئے تو وہ بہت بڑے بزرگ اور ولی اللہ تھے۔ان کے بیٹے پیر افتخار احمد صاحب بچوں کے پالنے میں بڑے ماہر ہیں۔مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم سلسلہ کے بہت بڑے رکن تھے۔ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور ایک قرب حاصل تھا اور سلسلہ کے معاملات میں بہت غیرت رکھتے تھے۔اس زمانہ میں تکلف اور آسائش وغیرہ کا خیال تو ہوتا ہی نہیں تھا۔پیر صاحب کے رہنے کیلئے ایک کوٹھڑی حضرت صاحب کے گھر میں تھی اور اس کے اوپر کی کوٹھڑی میں مولوی عبد الکریم صاحب رہا کرتے تھے۔پیر صاحب کے بچوں کے رونے چلانے کی آواز آنے پر ان کو غصہ آیا کرتا تھا اور اکثر پیر صاحب سے فرمایا کرتے تھے ” پیر صاحب آپ بھی کیسے ہیں بچوں کو چپ کیوں نہیں کراتے مجھے تو ان کے رونے کی آواز سے سخت گھبراہٹ ہوتی ہے۔جب 1905ء میں زلزلہ آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مع اپنے دوستوں کے باغ میں رہنے لگے تو ان دونوں کے جھونپڑے بھی پاس پاس تھے۔وہاں ایک دن مولوی صاحب نے پیر صاحب سے کہا۔” پیر صاحب! میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کے بچے روتے ہیں اور آپ نے ان میں سے ایک کو نہایت اطمینان سے کندھے سے لگایا ہوا ہوتا ہے اور دوسرے کو نرمی سے پچکارتے رہتے ہیں۔اگر میرے پاس ہوں تو ایسا نہ ہو سکے بلکہ مجھے تو یہ دیکھ کر ہی گھبراہٹ ہوتی ہے“۔پیر صاحب مسکرا دیئے اور کہنے لگے میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ بچوں کو تو میں نے اٹھایا ہوتا ہے اور آپ کو یونہی گھبراہٹ کیوں ہوتی ہے۔تو بعض مرد ایسے ہوتے ہیں۔مگر بالعموم مردوں کو اگر بچے سنبھالنے پڑیں تو تھوڑی ہی دیر میں گھبرا جائیں۔مجھے تو پانچ منٹ بھی اگر بچہ رکھنا پڑے تو گھبرا جاتا ہوں لیکن عورتیں کھانا پکانا، پڑھنا لکھنا سب کام کرتی ہیں اور بچوں کی نگہداشت سے اور ان کے رونے چلانے سے ذرا نہیں گھبراتیں۔اگر گھبرا بھی جائیں تو ذراسی چپت رسید کی اور ایک منٹ کے بعد پھر گلے لگا لیا۔غرض فطرتیں اللہ تعالیٰ نے مختلف رکھی ہیں۔اگر کوئی چاہے کہ دونوں کے فرائض بدل دیئے جائیں تو دونوں اپنے کاموں