تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 862

تذکار مہدی — Page 275

تذکار مهدی 275 روایات سید نا محمود بن جائے۔پانی کے لئے اللہ تعالیٰ کوئی ظاہری سامان ہی کرے گا مثلاً کسی قافلہ کو بھیج دے گا جس کے پاس پانی ہوگا، کسی سوکھے ہوئے کنویں سے پانی نکل آئے گا یا کوئی اور سامان پیدا ہو جائے گا یہ کبھی نہیں ہو گا کہ ہوا سے گیس نکل کر پانی بن جائے۔پس جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بغیر سامان کے کام ہوتے ہیں ، وہاں بھی اختفاء کا پہلو ضرور ہوتا ہے۔ہماری جماعت میں بھی اس قسم کے معجزہ کی مثالیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کشف میں دیکھا کہ آپ نے اپنے ہاتھ سے بعض پیشگوئیاں لکھیں جن کا مطلب یہ تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئیں اور وہ کاغذ دستخط کرانے کے لئے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا۔اللہ تعالیٰ نے قلم کو دوات میں ڈالا اور جس طرح زیادہ سیاہی لگ جانے سے اسے چھڑک دیا جاتا ہے چھڑ کا اور سرخ رنگ کے چھینٹے آپ پر بھی گرے آپ نے اٹھ کر بعینہ ویسے ہی قطرے دیکھے۔حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری مرحوم و مغفور جو اس وقت آپ کے پاؤں دبا رہے تھے ان کی ٹوپی پر بھی قطرے گرے۔اب یہ ایک نشان ہے اور ایسی چیز پیدا کی گئی جو عام قانون جاریہ میں نظر نہیں آتی مگر یہاں بھی اختفاء کا پہلو ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رویا دیکھا، اور رؤیا اپنی ذات میں اختفاء ہے۔پھر جو جاگتا تھا اس نے نہ قلم دیکھا نہ دوات نہ خدا کا ہاتھ اور نہ چھینٹے گرتے ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سب کچھ دیکھا مگر آپ اس وقت سوئے ہوئے تھے اور یہ نظارہ کشف کا تھا اس طرح یہاں بھی اختفاء موجود ہے۔پس تمام کام جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کئے جاتے ہیں، ان میں اخفاء ضرور رکھا جاتا ہے۔آنحضرت علیہ کے متعلق آتا ہے کہ آپ نے برتن میں ہاتھ ڈالا جس میں پانی کم تھا مگر پھر بھی سب لوگ سیراب ہو گئے۔اس میں بھی اخفاء ہے جس کی وجہ سے کوئی اس کی ہر تاویل کر لیتا ہے کہ صحابہ نے جب پانی جمع کرنا شروع کیا تو اس کا اندازہ کرنے میں غلطی کی۔دراصل پانی ان کے اندازہ سے زیادہ تھا کوئی کہتا ہے اللہ تعالیٰ نے تھوڑے پانی میں ہی برکت ڈال دی اور وہ سب کے لئے کافی ہو گیا۔بعض کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت سے ان کی پیاسوں میں کمی ہوگئی اور تھوڑے پانی سے بجھ گئیں۔( خطبات محمود جلد 15 صفحہ 212 تا 214) حضرت منشی احمد جان صاحب لدھیانہ والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی سے پہلے ہی وفات پاگئے تھے۔مگران