تذکار مہدی — Page 235
تذکار مهدی ) 235 روایات سید نا محمود یونہی لوگ شور مچارہے ہیں۔پھر کہنے لگے اچھا سینکڑوں نہ سہی میں اگر سو آیتیں ہی حیات مسیح کے ثبوت میں پیش کر دوں تو کیا آپ مان لیں گے۔آپ نے فرمایا میں نے تو کہہ دیا ہے کہ اگر آپ ایک ہی آیت ایسی پیش کر دیں گے تو میں مان لوں گا قرآن مجید کی جس طرح سو آیتوں پر عمل کرنا ضروری ہے اسی طرح اس کے ایک ایک لفظ پر عمل کرنا ضروری ہے ایک یا سو آنتوں کا سوال ہی نہیں۔کہنے لگے اچھا سو نہ سہی پچاس آیتیں اگر میں پیش کردوں تو کیا آپ کا وعدہ رہا کہ آپ اپنی بات چھوڑ دیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پھر فرمایا میں تو کہہ چکا ہوں آپ ایک ہی آیت پیش کریں میں ماننے کے لئے تیار ہوں۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جوں جوں اس امر پر پختگی کا اظہار کرتے جائیں انہیں شبہ ہوتا جائے کہ شاید اتنی آیتیں قرآن میں نہ ہوں۔آخر کہنے لگے اچھا دس آیتیں اگر میں پیش کردوں تو پھر آپ ضرور مان جائیے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہنس پڑے اور فرمایا میں تو اپنی پہلی ہی بات پر قائم ہوں آپ ایک آیت ایسی پیش کریں۔کہنے لگے اچھا میں اب جاتا ہوں چار پانچ دن تک آؤں گا اور آپ کو قرآن سے ایسی آیتیں دکھلا دوں گا۔ان دنوں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی لاہور میں تھے اور حضرت خلیفہ اول بھی وہیں تھے اور مولوی محمد حسین بٹالوی سے اس وقت مباحثہ کے لئے شرائط کا تصفیہ ہو رہا تھا جس کے لئے آپس میں خط و کتابت بھی ہو رہی تھی۔مباحثہ کا موضوع وفات مسیح تھا۔مولوی محمد حسین بٹالوی یہ کہتے تھے کہ چونکہ قرآن مجید کی مفسر حدیث ہے اس لئے جب حدیثوں سے کوئی بات ثابت ہو جائے تو وہ قرآن مجید کی ہی بات سمجھی جائے گی اس لئے حدیثوں کی رو سے وفات وحیات مسیح پر بحث ہونی چاہئے اور حضرت مولوی صاحب فرماتے کہ قرآن مجید حدیث پر مقدم ہے اس لئے بہر صورت قرآن سے اپنے مدعا کو ثابت کرنا ہوگا۔اس پر بہت دنوں بحث رہی اور بحث کو مختصر کرنے کے لئے اور اس لئے کہ تا کسی نہ کسی طرح مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے مباحثہ ہو جائے حضرت خلیفہ اول اس کی بہت سی باتوں کو تسلیم کرتے چلے گئے اور مولوی محمد حسین صاحب بہت خوش تھے کہ جو شرائط میں منوانا چاہتا ہوں وہ مان رہے ہیں۔اس دوران میں میاں نظام الدین صاحب وہاں جا پہنچے اور کہنے لگے اب تمام بخشیں بند کر دو۔میں اب حضرت مرزا صاحب سے مل کر آیا ہوں اور وہ بالکل تو بہ کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔