تذکار مہدی — Page 227
تذکار مهدی ) 227 مخالفین کو اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے کی دعوت روایات سید نا محمود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے مخالفین کو تحریک کی کہ ایسے جلسے منعقد کئے جائیں جن میں ہر شخص اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے۔آپ نے یہ نہیں کہا کہ چونکہ میں خدا تعالی کی طرف سے مامور ہوں اس لئے باقی سب لوگ اپنے اپنے مذہب کی تبلیغ بند کر دیں لیکن اگر آپ کانگرس کی پالیسی اختیار کرتے تو کہتے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں تم سب گونگے ہو جاؤ مگر نہیں آپ نے ایسا نہیں کیا کیونکہ آپ جانتے تھے کہ باقی لوگوں کو بھی تبلیغ کا ویسا ہی حق ہے جیسا مجھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ تم اپنی بات پیش کرو میں اپنی بات پیش کرتا ہوں اور جب تک یہ طریق پیش نہ کیا جائے امن کبھی نہیں ہو سکتا اور حق نہیں پھیل سکتا۔دنیا میں کون ہے جو اپنے آپ کو حق پر نہیں سمجھتا لیکن جب خیالات میں اختلاف ہو تو ضروری ہے کہ اسے ظاہر کرنے کا موقع دیا جائے۔ملکہ کو تبلیغ اسلام ( خطبات محمود جلد 12 صفحہ 418) پہلے زمانوں میں کیا مجال تھی کہ کوئی بادشاہ کو تبلیغ تو کر سکے۔یہ بہت بڑی گستاخی اور بے ادبی سمجھی جاتی تھی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو ایک خط لکھا جس میں اسے اسلام کی طرف بلایا اور کہا کہ اگر اسے قبول کر لو گی تو آپ کا بھلا ہوگا۔یہ سن کر بجائے اس کے کہ ان کی طرف سے کسی قسم کی ناراضگی کا اظہار کیا جاتا اس چٹھی کے متعلق اس طرح شکر یہ ادا کیا گیا کہ ہم کو آپ کی چٹھی مل گئی جسے پڑھ کر خوشی ہوئی۔یہ سب اللہ تعالیٰ کے احسان اور فضل ہیں۔الفضل 19 اگست 1916 ء جلد 4 نمبر 13 صفحہ 7) ترک سفیر کو دیانت اور امانت پر قائم رہنے کی تلقین اگر خدانخواستہ خانہ کعبہ پر کوئی دشمن حملہ کر دے تو گو ہر مسلمان کا فرض ہو گا کہ وہ اپنی ہر چیز خانہ کعبہ کی حفاظت کیلئے قربان کر دے مگر اصل حفاظت وہی کرے گا جو خانہ کعبہ کا مالک اور ہمارا خدا ہے۔میں اس قسم کا اعتراض کرنے والوں کو ایک واقعہ سناتا ہوں جس سے پتہ لگ