تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 862

تذکار مہدی — Page 208

تذکار مهدی ) Ⓒ 208 → نامحمودی روایات سیّد نا محمود کہ وہ خود چھت کے زینہ سے گر کر مر گیا اور خدا نے اسے بتادیا کہ خدا کے انبیاء کے ساتھ تمسخر کا کیا نتیجہ ہوتا ہے، بہت سے لوگ ایسے تھے جو کہتے تھے مرزا صاحب کو کوڑھ ہو جائے گا خدا نے انہیں ہی کوڑھ میں مبتلاء کر دیا بہت کہتے تھے مرزا صاحب کو طاعون ہو جائے گا خدا نے کہنے والوں کو طاعون سے ہلاک کیا، جب ہزاروں مثالیں اسی قسم کی موجود ہیں تو ہم کہاں تک انہیں اتفاق پر محمول کریں پس اپنے اندر ایسی پاک تبدیلی پیدا کرو کہ دنیا اسے محسوس کرے تمہاری حالت یہ ہو کہ تمہارے تقویٰ و طہارت، تمہاری دعاؤں کی قبولیت اور تمہارے تعلق باللہ کو دیکھ کر لوگ اس طرف کھنچے چلے آویں۔یادرکھو کہ احمدیت کی ترقی ایسے ہی لوگوں کے ذریعہ سے ہوگی اور اگر آپ لوگ اس مقام پر یا اس کے قریب تک ہی پہنچ جائیں تو پھر اگر آپ باہر بھی قدم نہ نکالیں گے بلکہ کسی پوشیدہ گوشہ میں بھی جا بیٹھیں گے تو وہاں بھی لوگ آپ کے گرد جمع ہو جائیں گے۔(جماعت احمد یہ دہلی کے ایڈریس کا جواب، انوار العلوم جلد 12 صفحہ 86) مولوی عبد الکریم افغان کو گستاخی کی سزا میں ایک دفعہ لکھنو گیا وہاں ندوہ میں ایک مولوی عبد الکریم صاحب افغان تھے انہوں نے ہمارے خلاف جلسے کئے اور ایک جلسہ میں کہا کہ مرزا صاحب نبی بنے پھرتے ہیں اور حالت یہ ہے کہ مجھے مرزا حیرت دہلوی نے سنایا کہ مرزا صاحب دلی میں آئے اور مجھے علم ہوا تو میں انسپکٹر پولیس بن کر اس مکان پر گیا۔جہاں آپ ٹھہرے ہوئے تھے اور نوکر سے کہا کہ مرزا صاحب کو جلد اطلاع دو کہ پولیس افسر آیا ہے نوکر نے جا کر اطلاع دی اور مرزا صاحب گھبراہٹ میں جلدی جلدی نیچے اتر ہے اور آخری سیڑھی پر پہنچ کر ان کا پاؤں پھسل گیا اور گر پڑے یہ واقعہ سنا کر وہ مولوی خوب ہنسا کہ ایسا شخص بھی نبی ہو سکتا ہے اب یہ تمسخر تو ہے مگر کیا اتنا بڑا جو مولوی ثناء اللہ صاحب ہمیشہ کرتے ہیں؟ لیکن دیکھ لو مولوی ثناء اللہ صاحب کو تو اتنی لمبی ملی ہے اور مولوی عبد الکریم تیسرے ہی دن کو ٹھے سے گرا اور مرگیا بالکل اسی طرح جس طرح اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف غلط واقعہ منسوب کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے سزا دے دی۔پس یہ تو ایسی بات ہے جو خدا تعالیٰ بھی کرتا ہے اس کے نبی بھی کرتے رہے ہیں اور مجھے بھی کرنی پڑتی ہے بعض اوقات میں دیکھتا ہوں کہ ایک شخص ایسا بے حیا ہے کہ اس پر گرفت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اور اس کے برے نمونہ کا دوسروں پر بھی اثر نہیں ہوتا کیونکہ سب پر اس کی حالت عیاں ہوتی ہے