تذکار مہدی — Page 207
تذکار مهدی ) 207 روایات سید نا محمود اس وقت وہاں اس قدر نبوہ کثیر تھا کہ پلیٹ فارم پر کھڑا ہونے کی جگہ نہ رہی تھی بلکہ اسٹیشن کے باہر بھی دو رویہ سڑکوں پر لوگوں کی اتنی بھیڑ تھی کہ گاڑی کا گزرنا مشکل ہو گیا تھا۔حتی کہ افسران ضلع کو انتظام کے لئے خاص اہتمام کرنا پڑا اور غلام حیدر صاحب تحصیلدار اس اسپیشل ڈیوٹی پر لگائے گئے۔آپ حضرت صاحب کے ساتھ نہایت مشکل سے راستہ کراتے ہوئے گاڑی کو لے گئے کیونکہ شہر تک برابر ہجوم خلائق کے سبب رستہ نہ ملتا تھا۔اہل شہر کے علاوہ ہزاروں آدمی دیہات سے بھی آپ کی زیارت کے لئے آئے تھے۔قریباً ایک ہزار آدمی نے اس جگہ بیعت کی اور جب آپ عدالت میں حاضر ہونے کے لئے گئے تو اس قدر مخلوق کا رروائی مقدمہ سننے کے لئے موجود تھی کہ عدالت کو انتظام کرنا مشکل ہو گیا۔دُور میدان تک لوگ پھیلے ہوئے تھے۔پہلی ہی پیشی میں آپ بڑی کئے گئے اور مع الخیر واپس تشریف لے آئے۔(سیرت حضرت مسیح موعود۔انوار العلوم جلد 3 صفحہ 366) جماعت کی ترقی اور کرم دین والے مقدمہ کا طول پکڑنا 1903ء سے آپ کی ترقی حیرت انگیز طریق سے شروع ہوگئی اور بعض دفعہ ایک ایک دن میں پانچ پانچ سو آدمی بیعت کے خطوط لکھتے تھے اور آپ کے پیرو اپنی تعداد میں ہزاروں لاکھوں تک پہنچ گئے۔ہر قسم کے لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور یہ سلسلہ بڑے زور سے پھیلنا شروع ہو گیا اور پنجاب سے نکل کر دوسرے صوبوں اور پھر دوسرے ملکوں میں بھی پھیلنا (سیرت حضرت مسیح موعود انوار العلوم جلد 3 صفحہ 266 ) شروع ہو گیا۔مخالفین کا انجام حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی تشریف لائے تھے تو لکھنو کا ایک مولوی ایک دن آپ کے مکان پر آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس وقت کھانا کھا رہے تھے۔خادم نے کہا آپ ٹھہرئیے حضرت صاحب کھانا کھا رہے ہیں اس مولوی نے کہا نہیں انہیں کہو کہ ایک پولیس آفیسر باہر کھڑا ہے اور وہ ابھی بلاتا ہے۔حضرت صاحب نے یہ سُن لیا اور خود ہی باہر تشریف لے آئے۔اتفاق سے اس وقت آپ کا پاؤں ایک مقام پر پھسل گیا اس پر اُس نے تمسخر کیا کہ اچھے مسیح ہیں کہ پولیس آفیسر کے ڈر سے پاؤں پھسل گیا لیکن ابھی تین دن بھی نہیں گذرے تھے