تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 862

تذکار مہدی — Page 201

تذکار مهدی ) 201 روایات سید نامحمود کٹا ہوا ہے اور زرد زرد پٹیاں اُس نے باندھی ہوئی ہیں۔ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اسے کوئی زخم ہے اور اس نے ہلدی اور تیل وغیرہ ملا کر پٹیاں باندھی ہوئی ہیں۔مجھے خوب یاد ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہاں سے گزرے تو وہ اپنائنڈ دوسرے ہاتھ پر مار مار کر کہتا تھا کہ مرزا دوڑ گیا مرزا دوڑ گیا۔بچپن کے لحاظ سے مجھے یہ ایک عجیب بات معلوم ہوئی کہ اس کا ایک ہاتھ ہے نہیں صرف ٹنڈ ہی ٹھنڈ ہے مگر یہ اپنائنڈ مار مار کر بھی یہی کہہ رہا ہے کہ مرزا دوڑ گیا مرزا دوڑ گیا۔ایک اور مولوی ہوا کرتا تھا جو ٹاہلی والا مولوی“ کہلاتا تھا۔اُس کی عادت تھی کہ وہ ہمیشہ درخت پر بیٹھ کر گالیاں دیا کرتا تھا۔غرض لاہور میں یا تو مخالفت کی یہ حالت ہوا کرتی تھی اور یا آب اندرونی طور پر چاہے کیسی ہی مخالفت ہو ہم ان کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ ادب سے سلام بھی کرتے ہیں اور ہماری باتوں کی طرف متوجہ بھی ہوتے ہیں۔کوئی خدا تعالیٰ کے شیر پر بھی ہاتھ ڈال سکتا ہے خطبات محمود جلد 30 صفحہ 303 تا 306 ) | ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی مردم شماری کرائی تو ان کی تعداد سات سو تھی۔صحابہ نے خیال کیا کہ شاید آپ نے اس واسطے مردم شماری کرائی ہے کہ آپ کو خیال ہے کہ دشمن ہمیں تباہ نہ کر دے اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! اب تو ہم سات سو ہو گئے ہیں کیا اب بھی یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ کوئی ہمیں تباہ کر سکے گا۔یہ کیا شاندار ایمان تھا کہ وہ سات سو ہوتے ہوئے یہ خیال تک بھی نہیں کر سکتے تھے کہ دشمن انہیں تباہ کر سکے گا مگر آج صرف ہندوستان میں سات کروڑ مسلمان ہیں مگر حالت یہ ہے کہ جس سے بھی بات کرو اندر سے کھوکھلا معلوم ہوتا ہے اور سب ڈر رہے ہیں کہ معلوم نہیں کیا ہو جائے گا۔گجا تو سات سو میں اتنی جرات تھی اور گجا آج سات کروڑ بلکہ دنیا میں چالیس کروڑ مسلمان ہیں مگر سب ڈر رہے ہیں اور یہ ایمان کی کمی کی وجہ سے ہے جس کے اندر ایمان ہوتا ہے وہ کسی سے ڈر نہیں سکتا۔ایمان کی طاقت بہت بڑی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا واقعہ ہے ایک دفعہ آپ گورداسپور میں تھے میں وہاں تو تھا مگر اس مجلس میں نہ تھا جس میں یہ واقعہ ہوا۔مجھے ایک دوست نے جو اس مجلس میں تھے سنایا کہ خواجہ کمال الدین صاحب اور بعض دوسرے احمدی