تذکار مہدی — Page 198
تذکار مهدی ) 198 نامحمودی روایات سیّد نا محمود آپ نے کیوں سلام کیا ہے؟ وہ کہنے لگا۔حضور پہلا سلام حضرت محمد ﷺ کی طرف سے تھا کیونکہ آپ نے فرمایا تھا کہ جب تم مسیح سے ملو تو اسے میر اسلام کہہ دینا۔پس میں نے پہلی دفعہ سول کریم وہ کا سلام آپ کو پہنچایا اور دوسری مرتبہ میں نے اپنی طرف سے آپ کو السَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہا ہے۔میں نہیں جانتا کہ اس شخص کا کیا نام تھا۔میں اس وقت بچہ تھا جب یہ واقعہ ہوا۔مگر میں جانتا ہوں کہ اس سادہ سے فعل سے اس نے اپنے لئے بہت بڑی برکتیں جمع کر لیں کیونکہ بعض دفعہ چھوٹی سی بات بڑے بڑے ثواب کا موجب بن جاتی ہے اور بعض دفعہ چھوٹی سی بات بڑے بڑے عذاب کا موجب بن جاتی ہے۔مخالفت کا جوش ( الفضل 7 دسمبر 1941 ء جلد 29 نمبر 278 صفحہ 5 اکتوبر 1897ء میں آپ کو ایک شہادت پر ملتان جانا پڑا۔وہاں شہادت دے کر جب واپس تشریف لائے تو کچھ دنوں لاہور بھی ٹھہرے یہاں جن جن گلیوں سے آپ گذرتے ان میں لوگ آپ کو گالیاں دیتے اور پکار پکار کر بُرے الفاظ آپ کی شان میں زبان سے نکالتے۔میری عمر اس وقت آٹھ سال کی تھی اور میں بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ تھا۔میں اس مخالفت کی جو لوگ آپ سے کرتے تھے وجہ تو نہیں سمجھ سکتا تھا اس لئے یہ دیکھ کر مجھے سخت تعجب آتا کہ جہاں سے آپ گذرتے ہیں لوگ آپ کے پیچھے کیوں تالیاں پیٹتے ہیں ، سیٹیاں بجاتے ہیں؟ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ ایک ٹنڈا شخص جس کا ایک پہونچا کٹا ہوا تھا اور بقیہ ہاتھ پر کپڑا باندھا ہوا تھا نہیں معلوم کہ ہاتھ کٹنے کا ہی زخم باقی تھا۔یا کوئی نیا زخم تھا وہ بھی لوگوں میں شامل ہو کر غالبا مسجد وزیر خاں کی سیڑھیوں پر کھڑا تالیاں پیٹتا اور اپنا کٹا ہو ا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارتا تھا اور دوسروں کے ساتھ مل کر شور مچا رہا تھا کہ ”ہائے! ہائے مر زانٹھ گیا۔" ( یعنی میدان مقابلہ سے فرار کر گیا ) اور میں اس نظارہ کو دیکھ کر سخت حیران تھا۔خصوصاً اس شخص پر اور دیر تک گاڑی سے سر نکال کر اس شخص کو دیکھتا رہا۔لاہور سے حضرت صاحب سید ھے قادیان تشریف لے آئے۔سیرت مسیح موعود علیہ السلام۔انوار العلوم جلد 3 صفحہ 360)