تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 862

تذکار مہدی — Page 182

تذکار مهدی ) 182 روایات سید نا محمود میں رکھ چھوڑوں۔فرمایا نہیں میں اپنے پاس ہی رکھوں گا۔تو آپ کی اولاد سے ایسی محبت تھی۔آپ ہم سب سے ہی بہت پیار اور محبت کرتے تھے لیکن خاص کر ہمارے سب سے چھوٹے بھائی سے آپ کو ایسی محبت تھی کہ ہم سمجھتے تھے سب سے زیادہ اسی سے محبت کرتے ہیں۔ایک دن میں جب باہر سے آیا تو دیکھا کہ چھوٹے بھائی کے جسم پر ہاتھ کی پانچوں انگلیوں کے نشان پڑے ہوئے تھے۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ بچپن کی نا تجھی سے اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نکل گئی تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف تھی۔اس پر حضرت صاحب نے اس زور سے اسے مارا کہ اس کے بدن پر نشان پڑ گئے۔حضرت مرزا صاحب کی زندگی کا یہ نہایت ہی چھوٹا اور معمولی واقعہ ہے لیکن اس کو سامنے رکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آج کل مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کی کس قدر عزت ہے۔اکثر لوگ ایسے دیکھے جاتے ہیں جو مخالفین کے لیکچروں میں جاتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خوشی سے گالیاں سنتے ہیں۔بعض جوش میں آ کر آگے سے گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔مگر یہ بھی درست نہیں اور اکثر بیٹھے سنتے رہتے ہیں۔لاہور میں آریوں کا ایک جلسہ ہوا جس میں شامل ہونے کی دعوت حضرت مرزا صاحب کو بھی دی گئی اور بانیان جلسہ نے اقرار کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی برا لفظ استعمال نہیں کیا جائے گا لیکن جلسہ میں سخت گالیاں دی گئیں ہماری جماعت کے کچھ لوگ بھی وہاں گئے تھے جن میں حضرت مولوی نورالدین صاحب بھی تھے جن کی حضرت مرزا صاحب خاص عزت کیا کرتے تھے جب آپ نے سنا کہ جلسہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی گئی ہیں تو مولوی صاحب کو کہا۔وہاں بیٹھا رہنا آپ کی غیرت نے کس طرح گوارہ کیا کیوں نہ آپ اٹھ کر چلے آئے؟ اس وقت آپ ایسے جوش میں تھے کہ خیال ہوتا تھا کہ مولوی صاحب سے بالکل ناراض ہو جائیں گے۔مولوی صاحب نے کہا حضور غلطی ہو گئی۔آپ نے فرمایا یہ کیا غلطی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی جائیں اور آپ وہاں بیٹھے رہیں۔غرض ایسے بیسیوں واقعات ہیں جن سے ثابت ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی ساری زندگی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور توقیر کے لئے وقف تھی۔( تقریر سیالکوٹ۔انوار العلوم جلد 5 صفحہ 115 تا 113)