تذکار مہدی — Page 178
178 روایات سیّد نا محمود تذکار مهدی ) فوراً اقرار کر لیا کہ میں جھوٹ بولتا رہا ہوں لیمار چنڈ کا بیان ہے کہ میں نے اسے سچ سچ بیان دینے کے لئے کہا تو اس نے پہلے تو اصرار کیا کہ واقعہ بالکل سچا ہے۔مرزا صاحب نے مجھے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے قتل کرنے کے لئے بھیجا تھا لیکن میں نے سمجھ لیا کہ یہ شخص پادریوں سے ڈرتا ہے چنانچہ میں نے کہا۔میں نے ڈپٹی کمشنر صاحب سے حکم لے لیا ہے کہ اب تمہیں پادریوں کے پاس نہیں جانے دیا جائے گا اب تم پولیس کی حوالات میں ہی رہو گے تو وہ میرے پاؤں پر گر گیا اور کہنے لگا۔صاحب مجھے بچالو میں اب تک جھوٹ بولتا رہا ہوں اس نے مجھے بتایا کہ صاحب آپ دیکھتے نہیں تھے کہ جب میں گواہی کے لئے عدالت میں پیش ہوتا تھا تو میں ہمیشہ ہاتھ کی طرف دیکھتا تھا اس کی وجہ یہ تھی۔کہ جب پادریوں نے مجھے کہا کہ جاؤ اور عدالت میں بیان دو کہ مجھے مرزا صاحب نے ہنری مارٹن کلارک کے قتل کے لئے بھیجا تھا اور امرتسر میں مجھے فلاں مستری کے گھر میں جانے کے لئے ہدایت دی تھی ( یہ دوست مستری قطب الدین صاحب تھے جن کا ایک پوتا اس وقت جامعہ احمدیہ میں پڑھتا ہے ) تو میں نے کہا میں تو وہاں کے احمدیوں کو جانتا بھی نہیں مجھے اس کا نام یاد نہیں رہے گا (اس پر مستری صاحب کا نام کوئلہ کے ساتھ میری ہتھیلی پر لکھ دیتے تھے جب میں گواہی دینے آتا تھا اور ڈپٹی کمشنر صاحب مجھ سے دریافت کرتے تھے کہ تمہیں امرتسر میں کسی کے گھر بھیجا گیا تھا تو میں ہاتھ اٹھاتا تھا۔اور اس پر سے نام دیکھ کر کہہ دیتا تھا کہ مرزا صاحب نے مجھے فلاں احمدی کے پاس بھیجا تھا غرض اس نے ساری باتیں بتا دیں اور سر ڈگلس نے اگلی پیشی پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بری کر دیا۔تو دیکھو یہ سب واقعات ہمارے لئے آیات بینات ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے سرڈگلس کے لئے اور آیات بینات بھی پیدا کیں۔ایک آیت بینہ یہ تھی کہ انہیں ٹہلتے ٹہلتے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر نظر آتی تھی اور وہ تصویر کہتی تھی کہ میں بے گناہ ہوں میرا کوئی قصور نہیں پھر انہوں نے خود مجھے سنایا کہ ایک دن میں گھر میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک ہندوستانی آئی سی ایس آیا ہوا تھا اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آپ اپنی زندگی کے عجیب حالات میں سے کوئی ایک واقعہ بتا ئیں تو میں نے اسے یہی مرزا صاحب والا واقعہ سنایا میں یہ واقعہ سنا رہا تھا کہ بہرے نے ایک کارڈ لا کر دیا اور کہا باہر ایک آدمی کھڑا ہے جو آپ سے ملنا چاہتا ہے۔میں نے کہا اس کو اندر بلا لو جب وہ شخص اندر آیا۔تو میں نے کہا نو جوان میں آپ کو جانتا نہیں آپ کون ہیں اس نوجوان نے کہا آپ میرے والد کو جانتے ہیں آپ ان کے واقف ہیں ان کا نام