تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 862

تذکار مہدی — Page 179

تذکار مهدی ) 179 روایات سید نا محمود۔پادری وارث دین تھا میں نے کہا ہاں میں ابھی ان کا ذکر کر رہا تھا وہ نو جوان کہنے لگا ابھی تار آئی ہے کہ وہ فوت ہو گئے ہیں۔وارث دین ایک پادری تھا جس نے ڈاکٹر مارٹن کلارک کو خوش کرنے کے لئے اس کی طرف سے یہ ساری کارروائی کی تھی مگر خدا تعالیٰ نے ڈپٹی کمشنر صاحب پر حق کھول دیا اور خود جو گواہ تھا اس نے بھی اقرار کر لیا۔کہ جو کچھ کیا جا رہا ہے۔یہ سب جھوٹ ہے مگر عین اس وقت جب سر ڈگلس وارث دین کا ذکر کر رہے تھے اس کے بیٹے کا وہاں آنا اور اپنے والد کی وفات کی خبر دینا عجیب اتفاق تھا سر ڈگلس اپنی موت تک جس احمدی کو بھی ملتے رہے، اسے یہ واقعہ بتاتے رہے انہوں نے مجھے بھی یہ واقعہ سنایا چوہدری فتح محمد صاحب اور چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کو بھی یہ واقعہ سنایا 1924ء میں جب میں وہاں گیا تھا تو ان کی صحت اچھی تھی یہ 32 سال قبل کی بات ہے اب وہ 93 سال کی عمر میں فوت ہوئے ہیں اس لحاظ میں 1924ء میں ان کی عمر 61 سال تھی اس دفعہ جب میں انگلینڈ گیا تو میں نے انہیں بلایا تو انہوں نے معذرت کر دی اور کہا میں اب بڑھا ہو گیا ہوں اور بہت کمزور ہوں اب میرے لئے چلنا پھرنا مشکل ہے اب سنا ہے کہ وہ فوت ہو گئے ہیں تو مجھے افسوس ہوا کہ موٹر ہمارے پاس تھی ہم موٹر میں ہی انہیں منگوا لیتے یا ان کے گھر چلے جاتے تو یہ آیات بینات ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے انبیاء کی سچائی ظاہر کرتا رہتا ہے مومن کو چاہیئے کہ وہ بچے معنوں میں مومن بننے کی کوشش کرے اگر وہ حقیقی مومن بنے تو اللہ تعالیٰ ضرور غیب سے ایسے حالات پیدا کرتا ہے جس سے اس کا ایمان تازہ ہوتا رہتا ہے اور در حقیقت ایسے ایمان کے بغیر کوئی مزہ بھی نہیں جس ایمان نے آنکھیں نہ کھولیں اور انسان کو اندھیرے میں رکھا اس کا کیا فائدہ۔جو اس جہاں میں اندھا رہے گا وہ دوسرے جہاں میں بھی اندھا رہے گا اور جسے اس جہان میں آیات بینات نظر نہیں آتیں اس کو اگلے جہان میں بھی آیات بینات نظر نہیں آئیں گی۔اس دنیا میں آیات بینات نظر آئیں تو دوسری دنیا میں بھی آیات بینات نظر آتی ہیں۔پس مومن کو ہمیشہ دعاؤں اور ذکر الہی میں لگے رہنا چاہیے کہ وہ دن اسے نصیب ہو جب اللہ تعالی اسلام اور اپنے ذات کی سچائی اس کے لئے کھول دے اور اس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منور چہرہ اور خدا تعالیٰ کا نورانی چہرہ نظر آ جائے۔جب یہ ہو جائے تو پھر رات اور دن اور سال تکلیف کے سال ہوں یا خوشی کے سال ہوں۔اس کے لئے برابر ہو جاتے ہیں اور چاہے کچھ بھی ہو۔ایسا آدمی ہمیشہ خوش رہتا ہے اور مطمئن رہتا ہے وہ کسی سے