تذکار مہدی — Page 152
تذکار مهدی ) 152 روایات سیّد نا محمود رحمت اللہ صاحب، مرزا ایوب بیگ صاحب اور غالباً مفتی محمد صادق صاحب بھی ساتھ تھے کہ کسی نے زور سے پیچھے سے آپ پر دو ہتر مارا اور آپ گر گئے۔جو دوست ساتھ تھے وہ اس شخص کو مارنے لگے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا نہیں نہیں یہ معذور ہے اس نے اپنے خیال میں تو نیکی کا کام ہی کیا ہے اسے کچھ نہ کہو جانے دو۔تو یقینا اگر وہ شخص مجھے مل جاتا تو میں ایسا ہی نمونہ دکھاتا۔میں نے سنا ہے کہ بعض دوستوں نے کہا کہ اگر وہ مل جاتا تو کیا ہم اسے زندہ چھوڑتے ؟ مگر میں جانتا ہوں کہ میری موجودگی میں انہیں چھوڑنا ہی پڑتا۔میری غرض صرف اتنی تھی کہ کسی کے پتہ لگ جانے سے ایک تو معاملہ کی اصل حقیقت واضح ہو جاتی دوسرے اس کیلئے شرمندگی اور ندامت بھی ہوتی کیونکہ جب ایک شخص اپنی کسی حرکت سے اشتعال دلائے مگر دوسرا اشتعال میں نہ آئے بلکہ نرمی کا معاملہ اُس سے کرے تو یہ اس کیلئے شرمندگی کا موجب ہوتا ہے۔چونکہ اس چیز کا نشان نہیں پڑا اس لئے بعد میں میں نے اس پر غور کیا اور پولیس کے بعض افسروں سے بھی میری گفتگو ہوئی جس سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ غالبا چمڑے کی کوئی چیز تھی جیسے جوتی وغیرہ یا صاف ٹھدہ لکڑی تھی۔اس قسم کی چیز سے آواز بھی زور سے پیدا ہوتی ہے، دھما کہ بھی ہوتا ہے لیکن نشان کا پڑنا ضروری نہیں ہوتا اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس حرکت کے مرتکب کی غرض یہ تھی کہ جماعت میں اشتعال پیدا ہو جائے۔(خطبات محمود جلد 17 صفحہ 597،596) انسان جس چیز کا عادی ہو جائے وہ تکلیف نہیں رہتی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان سے میں نے خود اپنے کانوں سے یہ مضمون بارہا سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قسم کے ابتلاء آیا کرتے ہیں۔ایک تو وہ ابتلاء ہوتے ہیں جن میں بندے کو اختیار دیا جاتا ہے کہ تم اس میں اپنے آرام کیلئے خود کوئی تجویز کر سکتے ہو۔چنانچہ اس کی مثال میں آپ فرماتے دیکھو! وضو بھی ایک ابتلاء ہے سردیوں کے موسم میں جب سخت سردی لگ رہی ہوٹھنڈی ہوا چل رہی اور ذراسی ہوا لگنے سے بھی انسان کو تکلیف ہوتی ہو خدا تعالیٰ کی طرف سے انسان کو حکم ہوتا ہے کہ نماز پڑھنے سے پہلے وضو کرو۔بسا اوقات جب نماز کا وقت ہوتا ہے اُس وقت گرم پانی نہیں ہوتا یا بسا اوقات اسے گرم پانی میسر تو آسکتا ہے مگر اُس وقت تیار نہیں ہوتا۔پھر بسا اوقات اسے گرم پانی میسر ہی نہیں آسکتا یخ بستہ پانی ہوتا ہے اور اسی پانی سے اُسے وضو کر کے نماز پڑھنی پڑتی ہے۔آپ فرمایا کرتے یہ بھی ایک ابتلاء ہے جو اللہ تعالیٰ