تذکار مہدی — Page 151
تذکار مهدی ) 151 روایات سید نا محمود احساس پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ لوگ ظلم سے کام لے رہے ہیں انہیں نہیں چاہیئے کہ ایسا کریں مگر فرمایا وہ بھی دنیا کو نہیں چھوڑ سکتے جب دنیا ان کو نہیں ستاتی تو وہ خود اس کو جھنجوڑ تے اور بیدار کرتے ہیں تا کہ دنیا ان کی طرف متوجہ ہو اور ان کی باتوں کو سنے۔الفضل 20 / نومبر 1943 ء جلد 31 نمبر 273 صفحه 2) اپنے نفس کی کمزوری کا محاسبہ ہونا چاہئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی ایک واقعہ ہے کہ ایک دفعہ لا ہور کی ایک گلی میں ایک شخص نے آپ کو دھکا دیا آپ گر گئے جس سے آپ کے ساتھی جوش میں آگئے اور قریب تھا کہ اُسے مارتے۔لیکن آپ نے فرمایا کہ اس نے اپنے جوش میں سچائی کی حمایت میں ایسا کیا ہے اسے کچھ نہ کہو۔پس انبیاء اپنے نفس کے سوال کی وجہ سے نہیں بولتے بلکہ خدا کی عزت کے قیام کیلئے بولتے ہیں۔تو یہ نہیں خیال کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ان میں اور عام لوگوں میں بڑا فرق ہوتا ہے۔وہ خدا کیلئے کرتے ہیں اور عام لوگ اپنے لئے کرتے ہیں۔پس اگر کسی شخص کو یہ احساس پیدا ہو جائے کہ میں واقعہ میں کمزور ہوں تو ایسا انسان گمراہ ہو نہیں سکتا۔انسان گمراہ اُس وقت ہوتا ہے جب وہ یقین رکھتا ہے کہ میں حق پر ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت معاویہ کی نماز کا واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ان سے ایک مرتبہ فجر کی نماز قضا ہوگئی لیکن وہ اس غلطی کے نتیجے میں نیچے نہیں گرے بلکہ ترقی کی۔پس جو گناہ کا احساس کرتا ہے وہ گناہ سے بچتا ہے۔جب گناہ کا احساس نہیں رہتا تو انسان معصیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔پس مومن کو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ پر غور کرنا چاہئے اور سمجھنا چاہئے کہ وہ خطرات سے محفوظ نہیں ہوا۔صرف اُسی وقت محفوظ ہوسکتا ہے کہ جبکہ خدا کی آواز اُسے کہہ دے۔پس انسان کو اپنے نفس کی کمزوری کا محاسبہ کرنا چاہئے۔ایسے شخص کیلئے روحانیت کے راستے کھل جاتے ہیں۔جو ایسا نہیں کرتا اُس کیلئے روحانیت کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں اور ایسا انسان گمراہ ہو جاتا ہے۔(خطبات محمود جلد 18 صفحہ 142،141) اشتعال میں نہیں آنا چاہئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لاہور میں ایک دفعہ ایک گلی میں سے جارہے تھے