تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 862

تذکار مہدی — Page 148

تذکار مهدی ) 148 روایات سید نا محمود نہیں جو آج کل سمجھتے ہیں کہ منہ سے اقرار کافی ہے۔خدا تعالیٰ کی محبت زبان کی نہیں ہو سکتی بلکہ دل سے ہی ہو سکتی ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو پھر انسان ہر شے پر قبضہ کر لیتا ہے۔کبھی ایسا نہیں ہوا کہ منہ کی تھوک سے یا ایک قطرہ سے پہاڑ ڈھک جائے مگر بادلوں سے ڈھک جاتے ہیں۔اسی طرح اگر دل سے محبت کا دھواں اُٹھے تو اس سے اہم نتائج پیدا ہوں گے مگر جو منہ سے دعوئی کرتا ہے وہ پاگل ہے اسے نہ دین ملے گا نہ دنیا۔مؤمن کو کامل بنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ کسی نے کہا ہے۔ع کسب کمال گن کہ عزیز جہاں شوی جب تک کوئی انسان کمال حاصل نہ کرے انعام نہیں مل سکتا۔مذہب میں داخل ہونے سے بھی کمال ہی فائدہ دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ آج کل ہم سے فائدہ وہی اُٹھاتے ہیں جو گہرا تعلق رکھتے ہیں یا تو پوری مخالفت کرنے والے مثلاً مولوی ثناء اللہ صاحب وغیرہ دوسرے چھوٹے چھوٹے مولویوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں یا کامل اخلاص رکھنے والے۔ادنی اتعلق فائدہ نہیں دیتا۔اصل میں کمال ہی سے فضل ملتا ہے بغیر اس کے انسان فضل سے محروم رہتا ہے۔اگر انسان ہر چہ بادا باد کشتی ما درآب انداختیم“ کہہ کر خدا تعالیٰ کی طرف چل پڑے تو اُس کے ساتھ بھی پہلوں کا سا معاملہ ہوگا۔آخر خدا تعالیٰ کو کسی سے دشمنی نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان کامل طور پر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے آگے ڈال دے اور اس کے آستانہ پر گرا دے اس سے آپ ہی آپ اسے سب کچھ حاصل ہو جائے گا اور جو ترقی اس کیلئے ضروری ہوگی وہ آپ ہی آپ مل جائے گی۔آگ کے پاس بیٹھنے والے کے اعضاء کو دیکھو سب گرم ہوں گے اس کا چہرہ ہاتھ پاؤں جہاں ہاتھ لگاؤ گے گرم محسوس ہوگا۔تو پھر کس طرح ممکن ہے کوئی شخص سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر خدا کے پاس آئے اور اُس کے پاس بیٹھ جائے اور خدا تعالیٰ کا وجود اُس کے اندر سے ظاہر نہ ہو۔آگ کے اندر لوہا پڑ کر آگ کی خصوصیات ظاہر کرنے لگ جاتا ہے گو وہ آگ نہیں ہوتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والے لوگوں سے خاص معاملات ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں كُنْ فَيَكُونُ والی چادر پہنا دیتا ہے۔حتی کہ نادان اُن کو خدا سمجھنے لگ جاتے ہیں حالانکہ وہ تو صرف خدا تعالیٰ کی صفات کا عکس پیش کر رہے ہوتے ہیں۔