تذکار مہدی — Page 121
تذکار مهدی ) اظہار غم اور افسردگی 121 روایات سید نا محمودی حضرت حمزہ کی شہادت پر برابر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور تھمتے نہیں تھے۔ان کی وفات کے سالہا سال بعد جب ان کا قاتل وحشی آپ کے سامنے آیا تو آپ نے فرمایا تو بے شک مسلمان ہے اور میں تجھے معاف کرتا ہوں لیکن میرے سامنے نہ آیا کر۔تجھے دیکھ نہیں سکتا۔حالانکہ وحشی ہی وہ شخص تھا جو عین لشکر کفار کے قلب میں اس وقت گھس گیا جبکہ باقی فوج پیچھے ہٹ گئی تھی اور لوگ اس کو بھی پیچھے ہٹنے کے لیئے کہہ رہے تھے لیکن اس نے کہا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا جب تک میں حضرت حمزہ کے قتل کے عوض میں کسی بڑے کا فر سردار کو نہ قتل کروں گا اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹوں گا۔چنانچہ اس نے اس وقت مسیلمہ کو قتل کر دیا۔یہ اس کے ایمان اور اخلاص کا حال تھا مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تو میرے سامنے نہ آیا کر میں تجھے نہیں دیکھ سکتا۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا حال سن لو۔مولوی عبدالکریم صاحب بیمار ہوئے تو مولوی صاحب نے بار بار حضرت صاحب کی خدمت میں درخواست بھیجی کہ حضور مجھے اپنی زیارت کرا جائیں لیکن آپ نے فرمایا کہ میں مولوی صاحب کی تکلیف کو نہیں دیکھ سکتا۔مجھے اس وقت خود دورہ شروع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔یہاں تک کہ آپ نے اس کمرہ کو بھی چھوڑ دیا جس میں مولوی صاحب کے کراہنے کی آواز آتی تھی پھر ان کی وفات کے بعد مغرب اور عشاء کی نماز میں آنا ہی چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہاں جب مولوی صاحب کو موجود نہیں پاتے تھے اور وہ یاد آ جاتے تو آپ کو سخت تکلیف ہوتی اور فرماتے کہ مجھے بیماری کا دورہ شروع ہو جاتا ہے۔پس آنسوؤں سے رونا اور اظہار غم افسردگی اور اس کا اتنا لمبا اثر جو سالوں تک رہے یہ تو ثابت شدہ باتیں ہیں۔انبیاء اور ان کے متبعین کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک غم ان کو ان وجودوں کے متعلق ہوتا ہے جن کے ساتھ ان کا صرف جسمانی تعلق ہو اور ایک غم ان کو ان وجودوں کے متعلق ہوتا ہے جو ان کے مد و مددگار ہوتے ہیں اور یہ غم بہت عرصہ تک جاری رہتا ہے اور ان کی یاد میں ہمیشہ ان کے آنسو بہتے اور ان پر رفت کی حالت طاری ہو جاتی ہے کیونکہ وہ احسان فراموش نہیں ہوتے۔