تذکار مہدی — Page 99
تذکار مهدی ) مقدمہ دیوار اور صبر کی تلقین 99 روایات سید نا محمود مجھے حیرت ہوتی ہے ہماری جماعت کے مومن اور مخلص افراد بھی بعض دفعہ دشمنوں کی شرارتوں کی وجہ سے گھبرا جاتے ہیں حالانکہ دشمنوں کی حیثیت ہی کیا ہے۔میں بچہ تھا لیکن مجھے خوب یاد ہے یہاں ہمارے ہی بعض عزیز راستہ میں کیلے گاڑ دیا کرتے تھے تا کہ جب مہمان نماز پڑھنے آئیں تو رات کی تاریکی میں ان کیلوں کی وجہ سے ٹھوکر کھائیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوتا اور اگر کیلے اکھاڑے جاتے تو وہ لڑنے لگ جاتے۔اسی طرح مجھے خوب یاد ہے مسجد مبارک کے سامنے دیوار مخالفوں نے کھینچ دی تھی۔بعض احمدیوں کو جوش بھی آیا اور انہوں نے دیوار کو گرا دینا چاہا مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہمارا کام صبر کرنا اور قانون کی پابندی اختیار کرنا ہے۔پھر مجھے یاد ہے میں بچہ تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچپن سے ہی مجھے رویائے صادقہ ہوا کرتے تھے۔میں نے خواب میں دیکھا کہ دیوار گرائی جا رہی ہے اور لوگ ایک ایک اینٹ کو اٹھا کر پھینک رہے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کچھ بارش بھی ہو چکی ہے۔اسی حالت میں میں نے دیکھا کہ مسجد کی طرف حضرت خلیفہ اول تشریف لا رہے ہیں۔جب مقدمہ کا فیصلہ ہوا اور دیوار گرائی گئی تو بعینہ ایسا ہی ہوا۔اس روز کچھ بارش بھی ہوئی اور درس کے بعد حضرت خلیفہ اول جب واپس آئے تو آگے دیوار توڑی جا رہی تھی میں بھی کھڑا تھا۔چونکہ اس خواب کا میں آپ سے پہلے ذکر کر چکا تھا، اس لئے مجھے دیکھتے ہی آپ نے فرمایا میاں دیکھو خطبات محمود جلد 15 صفحہ 207-206 ) آج تمہارا خواب پورا ہو گیا۔دیوار گرائے جانے کی خبر میں ابھی بچہ ہی تھا کہ ہمارے شرکاء نے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے شدید مخالف تھے، مسجد کے سامنے ایک دیوار کھڑی کر کے اُس کا دروازہ بند کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کئی دفعہ گھر میں پردہ کرا کے لوگوں کو مسجد میں لاتے اور کئی لوگ اُوپر سے چکر کاٹ کر اور سخت تکلیف اُٹھا کر آتے۔اُس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سب لوگوں کو دعا کرنے کے لئے کہا اور مجھے بھی دعا کا ارشاد فرمایا۔میری عمر اُس وقت پندرہ سال کی تھی میں نے دعا کی تو مجھے ایک رؤیا ہوا جس میں میں نے دیکھا کہ میں بڑی مسجد سے آ رہا ہوں کہ دیوار گرائی جا رہی ہے۔میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل بھی