تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 862

تذکار مہدی — Page 94

تذکار مهدی ) 94 روایات سید نا محمودی قادیان کے مخالفین نے جو مخالفت از سر نو شروع کی ہے یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا تعالیٰ پھر اپنی قدرت کا ہاتھ دکھانا چاہتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ اس سے اچھی بات ہمارے لئے اور کیا ہوسکتی ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدرت ظاہر کرے اور نشان دکھائے۔اُس کی قدرت مخالفت کے زمانہ میں ہی ظاہر ہوتی ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود سے بارہا سنا ہے آپ فرمایا کرتے تھے کہ ابو جہل کو بہت گندا تھا لیکن اگر وہ گندا نہ ہوتا تو قرآن کریم بھی نہ ہوتا۔ابوبکر جیسوں کے لئے تو صرف بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ہی کافی تھا۔اتنا قرآن کریم تو مختلف مدارج رکھنے والے، طرح طرح کی تاریکیوں اور ظلمتوں میں پڑے ہوئے اور جہالتوں میں مبتلا لوگوں کے لئے ہی نازل ہو اور نہ مومن کے لئے تو بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ہی کافی تھا۔تو اس قسم کی مخالفتیں بہت فائدہ کا موجب ہوئی ہیں اور ضروری ہیں ان سے گھبرانا مومن کی شان کے خلاف بات ہے۔بلکہ ہمیں تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیئے اور دعا کرنی چاہیئے کہ وہ خود کوئی نشان دکھائے۔ان گالیوں کو سنا اور ان تکالیف کو برداشت کرنا چاہئے ان پر بگڑنے کی کوئی وجہ نہیں۔زیادہ سے زیادہ یہی خطرہ ہو سکتا ہے کہ کوئی کمزور اس سے گمراہ نہ ہو جائے لیکن جو شخص ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے گمراہ ہوسکتا ہے وہ ہمارے اندر رہ کر بھی کیا فائدہ دے سکتا ہے۔ایمان تو ایسی چیز ہے کہ اس راہ میں قدم مارنے والوں کو جان ہتھیلی پر لے کر چلنا پڑتا ہے۔بعض اہم اور ضروری امور (1944ء )۔انوار العلوم جلد 17 صفحہ 469،468) قادیان میں کشتی رانی میں نے کئی دفعہ ایک واقعہ سنایا ہے۔بچپن کی بات ہے کہ ایک دفعہ میں نے چند دوستوں کے ساتھ مل کر ایک کشتی خریدی۔اُس وقت وہ کشتی ہمیں 27 روپے میں مل گئی جو کہ اُس وقت کے لحاظ سے کافی سستی تھی اب تو کشتی دوسو روپے میں ملتی ہے۔ہم قادیان کی ڈھاب میں اُس کشتی پر سیر کیا کرتے تھے۔جیسے بچوں کا قاعدہ ہے دس پندرہ دن تک تو ہم با قاعدہ سیر کرتے رہے، پھر ہفتہ میں تین دن سیر کرتے ، پھر ہفتہ میں دو دن اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ ہم پندرہویں دن سیر کیلئے جاتے۔جب ہم وہاں نہ ہوتے تو باہر کے لڑکے آ کر اُس کشتی کو چلاتے۔جب ہم کشتی کو آ کر دیکھتے تو پہلے سے کچھ نہ کچھ خستہ حالت میں ہوتی۔میں اس حالت