تذکار مہدی — Page 95
تذکار مهدی ) 95 روایات سید نا محمود سے بہت تنگ آیا اور میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ کسی طرح تم انہیں پکڑوا دو۔ایک دن عصر کے وقت ایک لڑکا دوڑا ہوا آیا اور کہا کہ میں ان لڑکوں کو پکڑوا دوں۔اُس کشتی میں زیادہ سے زیادہ دس بارہ آدمی بیٹھ سکتے تھے لیکن جب میں وہاں گیا تو میں نے دیکھا کہ اٹھارہ انیس لڑکے بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے اتنے آدمی کشتی میں بیٹھے ہوئے دیکھ کر غصہ سے کہا جلدی ادھر کشتی لاؤ۔وہ گاؤں کے لڑکے تھے اور گاؤں والوں میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ بڑے زمینداروں کا مقابلہ کر سکیں۔اس ڈر سے کہ کہیں پٹ نہ جائیں اُن میں سے کچھ نے چھلانگیں لگا دیں اور تیر کر دوسرے کنارے نکل گئے اور کچھ اتنے مغلوب ہوئے کہ وہیں بیٹھے رہے اور کشتی کو کنارے کی طرف لے آئے۔میں غصہ سے سوئی پکڑے ہوئے کھڑا تھا اور اس خیال میں تھا کہ جب یہ باہر آئیں گے تو میں انہیں خوب ماروں گا۔وہ جب قریب آئے اور میری یہ حالت دیکھی تو اُن میں سے سوائے ایک کے باقی سب نے پانی میں چھلانگیں لگا دیں اور مختلف جہات کو دوڑ گئے۔صرف ایک لڑکا کشتی میں رہ گیا جسے میں نے پکڑ لیا۔میں سمجھتا تھا کہ اصل شرارتی یہی ہے اُس نے مدرسہ احمدیہ کے باورچی خانے کے پاس جہاں خانصاحب فرزند علی صاحب کا مکان ہے اور آجکل وہاں دفتر بیت المال ہے کشتی لا کر کھڑی کی۔جب وہ کشتی سے اُترا تو میں نے کہا ادھر آؤ۔قریب آنے پر میرے دل میں معلوم نہیں کیا خیال آیا کہ میں نے سوٹی رکھ دی اور اُسے مارنے کے لئے ہاتھ اُٹھایا۔جس وقت میں نے ہاتھ اُٹھایا تو اُس نے بھی ہاتھ اُٹھایا۔میں نے اُس کو مارنے کے لئے ہاتھ اُٹھایا تھا لیکن اُس نے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ہاتھ اُٹھایا تھا۔اُس کی اس حرکت کی تاب نہ لاتے ہوئے اور زیادہ غصہ میں آکر میں نے اپنا ہاتھ اور پیچھے کی طرف کھینچا تا کہ اُسے زور سے چانٹا رسید کروں لیکن جو نہی میں نے ہاتھ پیچھے کیا اُس نے ہاتھ نیچے گرا دیا۔اس وقت میری عمر 17 سال کے قریب تھی آج میں 57 سال کا ہو گیا ہوں گویا اس واقعہ کو چالیس سال گزر چکے ہیں لیکن جب بھی یہ واقعہ مجھے یاد آتا ہے تو میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور پسینہ چھٹ جاتا ہے۔جب اُس نے ہاتھ گرایا تو میں اُس وقت اتنا شرمندہ ہوا کہ میں سمجھتا تھا کہ کسی طرح زمین پھٹ جائے تو میں اس میں سما جاؤں۔یہ میرے سامنے کھڑا ہے اور اُس نے ہاتھ پیچھے گرا لیا ہے گویا دوسرے الفاظ میں کہہ رہا ہے کہ مجھے مارلو۔اُس کی یہ نرمی میرے لئے اتنی تکلیف دہ تھی کہ میں اُس وقت اپنے آپ کو دنیا کا