تذکار مہدی — Page 83
تذکار مهدی ) 83 روایات سید نا محمود تیسرے اور تیسرے کے بعد چوتھا ستارے ہو کیا یہ سلسلہ کہیں ختم نہیں ہو گا اگر ختم ہو گا تو اس کے بعد کیا ہو گا۔یہی وہ سوال ہے جس کے متعلق اکثر لوگ حیران رہتے ہیں اور وہ کہتے ہیں ہم جو کہتے ہیں کہ خدا غیر محدود ہے اس کے کیا معنی ہیں اور ہم جو کہتے ہیں خدا ابدی ہے اس کے کیا معنی ہیں۔آخر کوئی نہ کوئی حد ہونی چاہیئے یہی سوال میرے دل میں ستاروں کے متعلق پیدا ہوا اور میں نے کہا آخر یہ کہیں ختم بھی ہوتے ہیں یا نہیں اور اگر ہوتے ہیں تو اس کے بعد کیا ہے اور اگر ختم نہیں ہوتے تو یہ کیا سلسلہ ہے جس کی کوئی انتہا نہیں جب میرا دماغ یہاں تک پہنچا تو میں نے کہا خدا کی ہستی کے متعلق محدود اور غیر محدود کا سوال بالکل لغو ہے۔تم خدا تعالیٰ کو جانے دو تم ان ستاروں کے متعلق کیا کہو گے میری آنکھوں کے سامنے یہ پڑے ہیں۔اگر ہم ان کو محدود کہتے ہیں تو محدود وہ ہوتا ہے جس کے بعد دوسری چیز شروع ہو جائے پس سوال یہ ہے کہ اگر یہ محدود ہیں تو ان کے بعد کیا ہے اور پھر اگر وہ بھی محدود ہے تو اس کے بعد کیا ہے اور اگر کہو کہ یہ غیر محدود ہیں تو اگر ستاروں کی غیر محدودیت کا انسان قائل ہو سکتا ہے تو خدا تعالیٰ کی غیر محدودیت کا کیوں قائل نہیں ہو سکتا۔تب میرے دل نے کہا ہاں واقعہ میں خدا موجود ہے کیونکہ اس نے قانون قدرت میں وہی اعتراض رکھ دیا ہے جو اس کی ذات پر پیدا ہوتا ہے اور اس نے بتا دیا ہے کہ تم مجھے غیر مرئی چیز سمجھ کر اگر یہ اعتراض کرتے ہو تو پھر وہ چیز یں جو تمہیں نظر آ رہی ہیں ان کے متعلق تمہارا کیا جواب ہے جبکہ وہی اعتراض جو تم مجھ پر کرتے ہو ان پر بھی عائد ہوتا ہے اور تمہارے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تم خدا تعالیٰ کے متعلق تو بے تکلفی سے یہ کہہ دو گے کہ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ وہ غیر محدود ہے؟ (الفضل 27 ستمبر 1938 ء جلد 26 نمبر 223 صفحہ 8 مجھے خدا تعالیٰ کا ثبوت مل گیا اگر کسی غیر شخص کو مذہب کے معاملہ میں حج ماننا جائز ہو تو ماں باپ کی رائے کو ہی کیوں نہ مانا جائے۔یہ ایک ایسی بات ہے جسے میں کسی صورت میں نہیں مان سکتا میری تو یہ حالت ہے کہ باوجود یکہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر میں پیدا ہوا۔ابھی میری عمر گیارہ برس کی تھی کہ میں نے ایک دن خیال کیا کہ کیا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس