تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 862

تذکار مہدی — Page 84

تذکار مهدی ) 84 روایات سید نامحمود لئے مانتا ہوں کہ میں اُن کا بیٹا ہوں یا میرے پاس اُن کی صداقت کے ثبوت ہیں۔میں اُس وقت گھر سے باہر تھا اور میں نے خیال کیا کہ اگر میرے پاس ان کی صداقت کے ثبوت نہیں ہیں تو میں گھر میں واپس نہ جاؤں گا بلکہ یہیں سے اسی وقت کہیں باہر چلا جاؤں گا۔جب میں نے اپنے دل میں اس سوال کو حل کرنا شروع کیا کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے دعوئی میں بچے ہیں یا نہیں؟ تو میں نے اس سوال کو قرآن کریم اور احادیث کی روشنی میں حل کرنا چاہا۔اس پر مجھے خیال آیا کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی صداقت کے ثبوت میرے پاس ہیں؟ یا میں ان کو بھی اسی لیئے سچا سمجھتا ہوں کہ میں نے ماں باپ سے سنا ہے کہ یہ بچے ہیں۔تب میں نے اپنے دل میں اس سوال پر بحث شروع کی کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم سچے ہیں؟ اس سوال پر غور کرتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ کیا توحید الہی کے ثبوت میرے پاس ہیں؟ یا میں اسے صرف اس لئے مانتا ہوں کہ میرے ماں باپ اس کے قائل ہیں۔تب میں نے خدا تعالیٰ کی پیدا کی گئی کائنات اور اُس کی قدرتوں سے اس سوال کو حل کرنا شروع کیا اور توحید الہی پر غور کرتا گیا حتی کہ میرا دماغ تھک گیا اور آرام کرنا چاہا مگر میں نے فیصلہ کیا کہ یا تو میں اس سوال کو حل کر کے چھوڑوں گا اور یا میں گھر میں داخل نہ ہوں گا۔اُس وقت آسمان صاف تھا اور یہ آخری سوال تھا جسے میں حل کرنا چاہتا تھا میں نے خیال کیا کہ جب ہر چیز کہیں نہ کہیں جا کر ختم ہو جاتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ کو غیر محمد دو ماننا کیونکر درست ہوسکتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کو غیر محدود ماننا درست ہے تو دوسری چیزوں کے متعلق بھی ایسا کیوں نہ سمجھا جائے اور میری طبیعت یہاں آکر رکی کہ خدا تعالیٰ کا غیر محدود ہونا سمجھ میں نہیں آ سکتا اور محدود خدا نہیں ہو سکتا۔میری نظر ستاروں پر پڑی اور وہ بہت خوبصورت نظر آتے تھے۔میں نے خیال کرنا شروع کیا کہ ان کے پیچھے اور کیا ہوگا؟ میرے نفس نے جواب دیا کہ اورستارے ہوں گے پھر میں نے خیال کیا کہ ان کے پیچھے اور کیا ہوگا؟ اور پھر میرے نفس نے جواب دیا کہ اور ستارے ہوں گے۔اور ان کے پیچھے؟ تب میرے نفس نے جواب دیا کہ یہ تو ایک لامتناہی سلسلہ بن گیا یہ کہاں ختم ہوگا اور میں نے سمجھ لیا کہ یہ محدود دماغ میں نہیں آسکتا اور اس کی حد بندی نہیں کی جا سکتی۔تب میرا دماغ واپس لوٹا اور میں سمجھ گیا کہ خدا تعالیٰ اپنے آپ کو اپنی قدرتوں سے ظاہر کرتا ہے اور مجھے پتہ لگ گیا کہ اسی سوال کو حل کرنے کے لیئے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو پیدا کیا ہے۔ہم ستاروں کے بارہ میں جب یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ یہ سلسلہ کہاں ختم ہوتا ہے اور زمین کے بارہ