تذکار مہدی — Page 67
تذکار مهدی )۔67 روایات سید نا محمود ان کے مریدوں نے کہا کہ آپ اگر نہیں جاتے تو ہمیں جانے کی اجازت دے دیں اس پر انہوں نے بعض مریدوں کو اس شرط سے قادیان آنے کی اجازت دی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں سونا پیش کریں گے چنانچہ وہ قادیان آئے مرزا امام دین صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چازاد بھائی تھے وہ چو ہڑوں کے پیر بنے ہوئے تھے اور اپنے آپ کو ان کے بزرگوں کا اوتار قرار دیتے اور کہتے کہ چوہڑوں کا لال بیگ میں ہوں انہوں نے جب دیکھا کہ ادنی اقوام کے بعض لوگ آئے ہیں تو انہوں نے انہیں بلایا اور ان کے آگے حقہ رکھ دیا اور پوچھا کہ تم یہاں کیا لینے آئے ہو۔انہوں نے جواب دیا کہ ہم حضرت مرزا صاحب کو ملنے کے لیئے آئے ہیں اس پر مرزا امام دین صاحب نے کہا چوہڑوں کا لال بیگ تو میں ہوں تم مرزا غلام احمد کے پاس کیوں چلے گئے وہ تو ٹھگ ہے اور اس نے یونہی دکان بنائی ہوئی ہے تمہیں وہاں سے کیا ملا ہے وہ لوگ ان پڑھ تھے لیکن تھے حاضر جواب۔انہوں نے جواب دیا۔مرزا صاحب ہم ادنی اقوام سے تعلق رکھتے تھے مرزا غلام احمد صاحب پر ایمان لائے تو لوگ ہمیں مرزائی مرزائی کہنے لگ گئے آپ مغل تھے اور ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انکار کی وجہ سے آپ چوہڑے کہلانے لگ گئے۔اس پر وہ گھبرا کر خاموش ہو گئے۔غرض غیر تو غیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے قریبی رشتہ دار بھی یہ سمجھتے تھے کہ سلسلہ احمدیہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں بلکہ یہ محض دکان داری ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو بڑھایا اور دنیا کے کونہ کونہ میں اس کے پودے لگا دیئے۔میں نے بتایا ہے کہ مرزا امام دین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سخت مخالف تھے لیکن جیسے اللہ تعالیٰ نے ابو جہل کے ہاں عکرمہ جیسا بزرگ بیٹا پیدا کر دیا تھا۔اسی طرح مرزا امام دین صاحب کی لڑکی خورشید بیگم جو ہمارے بڑے بھائی مرزا سلطان احمد صاحب سے بیاہی ہوئی تھیں۔بڑی نیک اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور سلسلہ احمدیہ کی کچی عاشق تھیں انہوں نے اپنی وفات تک ایسا اخلاص دکھایا کہ حیرت آتی ہے۔( الفضل 30 مئی 1959 ء جلد 48/13 نمبر 127 صفحہ 3,2) مرزا امام دین صاحب کی مخالفت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمن آپ پر وہی اعتراض کرتے ہیں جو