تذکار مہدی — Page 68
تذکار مهدی ) 68 روایات سید نا محمودی رسول کریم ﷺ پر آپ کے دشمنوں نے کیئے اور ان میں اتنی مطابقت اور مشابہت ہوتی ہے کہ حیرت آتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمن جب آپ پر اعتراض کرتے تو آپ فرماتے یہی اعتراض آج سے 1300 سال پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آپ کے مخالفین نے کیئے تھے۔جب وہ باتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے قابلِ اعتراض نہ تھیں بلکہ آپ کی صداقت کی دلیل تھیں تو وہ میرے لئے کیوں قابلِ اعتراض بن گئی ہیں۔پس جو جواب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا دیا وہی جواب میں تمہیں دیتا ہوں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جواب میں یہ طریق اختیار فرماتے اور لوگوں پر اس طریق سے حجت قائم کرتے تو مخالفین شور مچاتے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برابری کرتا ہے حالانکہ یہ صاف بات ہے کہ جو اعتراض ابو جہل کرتا تھا جو شخص ان اعتراضوں کو دُہراتا ہے وہ مثیل ابو جہل ہے اور جس شخص پر وہ اعتراض کیئے جاتے ہیں وہ مثیل محمد (ﷺ) ہے۔پس ہر زمانہ میں مؤمنوں اور کافروں کی پہلے مؤمنوں اور کافروں سے مشابہت ہوتی چلی آئی ہے لیکن دنیا ہمیشہ اس بات کو بھول جاتی ہے اور جب کبھی نیا دور آتا ہے تو نئے سرے سے لوگوں کو یہ سبق دینا پڑتا ہے اور اس اصول کو دنیا کے سامنے دُہرانا پڑتا ہے اور خدا کی طرف سے آنے والا لوگوں کے اس اصول کو بھول جانے کی وجہ سے لوگوں سے گالیاں سنتا ہے اور ذلتیں برداشت کرتا ہے۔اس کے اپنے اور بیگانے ، دوست اور دشمن سب مخالف ہو جاتے ہیں اور قریبی رشتہ دارسب سے بڑے دشمن بن جاتے ہیں۔حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار پاس کے مکانوں میں نئے آنے والوں کو روکنے کے لئے بیٹھے رہتے تھے اور جب کوئی شخص مسلمانوں کے پاس آتا تو وہ رستہ میں اُسے روک لیتے اور سمجھاتے کہ یہ شخص ہمارے رشتہ داروں میں سے ہے، ہم اس کے قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجود اس کو نہیں مانتے کیونکہ ہم لوگ جانتے ہیں کہ سوائے جھوٹ کے اور کوئی بات نہیں۔ہم آپ لوگوں سے اس کو زیادہ جانتے ہیں ، ہم سے زیادہ آپ کو واقفیت نہیں ہوسکتی ، ہم اس کے ہر ایک راز سے واقف ہیں بہتر ہے کہ آپ یہیں سے واپس چلے جائیں اسی میں آپ کا فائدہ ہے۔یہی حال ہم نے اُن کا دیکھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رشتہ دار تھے۔اُن کی باتوں کو سن کر جو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے