تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 862

تذکار مہدی — Page 49

تذکار مهدی ) +49☀ روایات سید نا محمود آپ کو دنیوی معاملات میں ہوشیار کرنے کیلئے مقدمات وغیرہ میں مصروف رکھنا چاہتے تھے اور آپ کی جو تحریر ملی ہے اس میں آپ نے اپنے والد صاحب کو لکھا ہے کہ دنیا اور اس کی دولت سب فانی چیزیں ہیں مجھے ان کاموں سے معذور رکھا جائے۔مگر انہوں نے جب آپ کا پیچھا نہ چھوڑا تو آپ سیالکوٹ چلے گئے کہ دن کو تھوڑا سا کام کر کے رات کو بے فکری کے ساتھ ذکر الہی کر سکیں۔دوسری حکمت اس میں یہ ہے کہ قادیان سارا ہماری ملکیت ہے اور اب بھی جن لوگوں نے وہاں زمینیں لی ہیں وہ سب احمدی ہیں اس لحاظ سے بھی گویا وہاں کے لوگ ہماری رعایا ہیں۔اس لئے وہاں کے لوگوں کی حضرت مرزا صاحب کے متعلق شہادت پر کوئی کہ سکتا تھا کہ خواجہ کا گواہ مینڈک“ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سیالکوٹ لا ڈالا۔جہاں آپ کو غیروں میں رہنا پڑا اور اس طرح خدا تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ ناواقف لوگوں میں سے وہ لوگ جن پر آپ یا آپ کے خاندان کا کوئی اثر نہ ہو۔آپ کی پاکیزہ زندگی کے لئے شاہد کھڑے کئے جائیں۔پھر سیالکوٹ پنجاب میں عیسائیوں کا مرکز ہے وہاں آپ کو ان سے مقابلہ کا بھی موقعہ مل گیا۔آپ عیسائیوں سے مباحثات کرتے رہتے تھے اور مسلمانوں نے آپ کی زندگی کو دیکھا۔قادیان کے لوگوں کو آپ کے مزارع کہا جاسکتا تھا مگر سیالکوٹ کے لوگوں کی یہ حیثیت نہیں تھی۔وہاں کے تمام بڑے بڑے مسلمان آپ کی عگوشان کے معترف ہیں۔مولوی میرحسن صاحب جو ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے استاد تھے اور جن کے متعلق ڈاکٹر صاحب ہمیشہ اظہار عقیدت کرتے رہے ہیں۔اگر چه آخر تک سلسلہ کے مخالف رہے مگر وہ ہمیشہ اس بات کے معترف تھے کہ مرزا صاحب کا پہلا کیریکٹر بے نظیر تھا اور آپ کے اخلاق بہت ہی اعلیٰ تھے۔پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو سیالکوٹ میں معمولی نوکری اس غرض سے کرائی تھی اس زمانہ میں عیسائیوں کا بڑا رعب ہوتا تھا۔اب تو کانگرس نے اسے بہت کچھ مٹا دیا ہے اس زمانہ میں پادریوں کا رعب بھی سرکاری افسروں سے کم نہ تھا اور اعلیٰ افسر تو الگ رہے ادنی ملازموں تک کی یہ حالت تھی کہ چٹھی رسان دیہات میں بڑی شان سے جاتے اور کہتے لاؤ مٹھائی کھلاؤ تمہارا خط لایا ہوں۔تو اس وقت پادریوں کا بہت رعب تھا لیکن جب سیالکوٹ کا انچارج مشنری ولایت جانے لگا تو وہ حضرت مرزا صاحب کے ملنے کے لئے خود کچہری آیا۔ڈپٹی کمشنر سے دیکھ کر اس کے استقبال کے لئے آیا اور دریافت کیا کہ آپ کس طرح تشریف لائے ہیں؟ کوئی کام ہو تو ارشاد فرما ئیں مگر اس نے کہا۔میں صرف آپ کے اس منشی سے ملنے آیا ہوں۔یہ ثبوت تھا اس امر کا کہ آپ کے مخالف بھی تسلیم کرتے