تذکار مہدی — Page 43
تذکار مهدی ) 43 روایات سید نا محمودی سن لڑکی کو جس سے بعد میں آپ کی شادی بھی ہوگئی کہا کرتے تھے کہ نامراد ے دعا کر کہ خدا میرے نماز نصیب کرے۔“ اس فقرہ سے جو نہایت بچپن کی عمر کا ہے پتہ چلتا ہے کہ نہایت بچپن کی عمر سے آپ کے دل میں کیسے جذبات موجزن تھے اور آپ کی خواہشات کا مرکز کس طرح خدا ہی خدا ہو رہا تھا۔(رساله ریویو آف ریلیجنز اردو بابت ماہ ستمبر 1916 ء جلد 15 نمبر 9 صفحہ 328) بکریاں چروانا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے بچپن کا واقعہ ہے۔ایک غیر احمدی جواب فوت ہو چکا ہے اس نے سنایا کہ حضرت صاحب جب بچہ تھے گاؤں سے باہر شکار کے لئے گئے اور شکار کے لئے پھندا تیار کرنے لگے، پھر اس خیال سے کہ کھانا کھانے کے لئے گھر نہیں جا سکیں گے ایک دھیلہ ایک بکری چرانے والے کو دیا کہ جا کر چنے بھنوالا ؤ ( اس زمانہ میں روپیہ کی بہت قیمت تھی اور کوڑیوں سے بھی خرید و فروخت ہوا کرتی تھی ) اور اس سے وعدہ کیا کہ میں اتنی دیر تمہاری بکریوں کا خیال رکھوں گا۔وہ شخص جا کر کسی کام میں لگ گیا اور وہ واپس نہ آیا۔ایک دوسرے شخص نے دیکھ کر کہا کہ آپ اس قدر دیر سے انتظار کر رہے ہیں۔میں جا کر اسے بھیجوں اور یہ شخص جا کر اس لڑکے کو تلاش کرتا رہا اور کہیں شام کے قریب اسے جا ڈھونڈا اور آپ شام تک بکریاں چرایا کئے اور اپنے وعدہ پر قائم رہے۔جب وہ آیا تو آپ اس پر ناراض بھی نہ ہوئے۔یہ اخلاق ہیں جو جیتنے والوں میں ہوتے ہیں نہ یہ کہ عمر آخر ہونے کو آئی ہے اور ہر کام میں سستی ، ہر کام میں غفلت، کوئی ہوشیار کرے تو ہوشیار ہوں ورنہ پھر غفلت کی حالت میں چلے جائیں۔( خطبات محمود جلد 15 صفحہ 368) میں نے جس کا نوکر ہونا تھا ہو چکا مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ آپ کے ایام جوانی میں آپ کے والد صاحب اور ہمارے دادا صاحب اکثر اوقات افسوس کا اظہار کیا کرتے تھے کہ میرا ایک بچہ تو لائق ہے۔( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بڑے بھائی اور ہمارے تایا مرزا غلام قادر صاحب ) مگر دوسرا لڑکا ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام )