تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 862

تذکار مہدی — Page 42

تذکار مهدی ) 642 روایات سید نا محمود تھے کہ میرے بعد اس لڑکے کا کس طرح گزارہ ہوگا اور اس بات پر ان کو سخت رنج تھا کہ یہ اپنے بھائی کا دست نگر رہے گا اور کبھی کبھی وہ آپ کے مطالعہ پر چڑ کر آپ کو ملاں بھی کہہ دیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ ہمارے گھر میں ملاں کہاں سے پیدا ہو گیا ہے لیکن باوجود اس کے خود ان کے دل میں بھی آپ کا رعب تھا۔اور جب کبھی وہ اپنی دنیاوی ناکامیوں کو یاد کرتے تھے تو دینی باتوں میں آپ کے استغراق کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے اور اس وقت فرماتے تھے کہ اصل کام تو یہی ہے جس میں میرا بیٹا لگا ہوا ہے لیکن چونکہ ان کی ساری عمر دنیا کے کاموں میں گذری تھی اس لئے افسوس کا پہلو غالب رہتا تھا مگر حضرت مرزا صاحب اس بات کی بالکل پرواہ نہ کرتے تھے بلکہ کسی کسی وقت قرآن و حدیث اپنے والد صاحب کو بھی سنانے کے لئے بیٹھ جاتے تھے۔اور یہ ایک عجیب نظارہ تھا کہ باپ اور بیٹا دو مختلف کاموں میں لگے ہوتے تھے اور دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کو شکار کرنا چاہتا تھا۔باپ چاہتا تھا کہ کسی طرح بیٹے کو اپنے خیالات کا شکار کرے اور دنیاوی عزت کے حصول میں لگا دے اور بیٹا چاہتا تھا کہ اپنے باپ کو دنیا کے خطرناک پھندہ سے آزاد کر کے اللہ تعالیٰ کی محبت کی لولگا دے۔غرض یہ عجیب دن تھے جن کا نظارہ کھینچنا قلم کا کام نہیں۔“ (رسالہ ریویو آف ریلیجنز اردو جلد 15 نمبر 9 ستمبر 1916 ء صفحہ 333) خدمت دین کی لگن مجھے سب سے زیادہ ایک بوڑھے شخص کی شہادت پسند آیا کرتی ہے۔یہ ایک سکھ ہے جو آپ کا بچپن کا واقف ہے۔وہ آپ کا ذکر کر کے بے اختیار رو پڑتا ہے۔اور سنایا کرتا ہے کہ پ کے پاس آکر بیٹھتے تھے تو آپ ہمیں کہتے تھے کہ جا کر میرے والد صاحب سے سفارش کرو کہ مجھے خدا اور دین کی خدمت کرنے دیں اور دنیوی کاموں سے معاف رکھیں۔پھر وہ شخص یہ کہہ کر رو پڑتا کہ وہ تو پیدائش سے ہی ولی تھے۔“ محبت الہی احمدیت یعنی حقیقی اسلام - انوار العلوم جلد 8 صفحہ 207 ) جب آپ ( حضرت مسیح موعود ) کی عمر نہایت چھوٹی تھی تو اس وقت آپ ایک اپنی ہم