تذکار مہدی — Page 785
تذکار مهدی ) 785 روایات سید نامحمود وہ اوپر کے نمبر پر آ جائے گا۔ہم کھڑے تھے استاد نے سوال کیا ایک لڑکے نے اس کا جواب دیا۔دوسرے نے ہاتھ بڑھا کر کہا ماسٹر جی یہ جواب غلط ہے۔ماسٹر صاحب نے پہلے لڑکے سے کہا تم نیچے آ جاؤ اور دوسرے کو کہا تم اوپر چلے جاؤ نیچے آتے ہی اس لڑکے نے جو پہلے اوپر کے نمبر پر تھا کہا کہ مولوی صاحب اس نے میری غلطی نکالتے ہوئے غلط لفظ کو غلط کہا ہے۔جو غلط ہے۔اس استاد نے پھر اسے سابق جگہ پر کھڑا کر دیا۔اور دوسرے لڑکے کو پھر نیچے گرا دیا۔یہی حالت بعض معترضوں کی ہوتی ہے۔وہ دوسرے پر غلط یا صحیح اعتراض کرتے ہیں۔لیکن اعتراض کا طریقہ مجرمانہ اختیار کرتے ہیں اور اس طرح اس کو سزا دلاتے دلاتے خود سزا کے مستحق ہو جاتے ہیں اور پھر شور مچاتے ہیں کہ مجرم کو کوئی نہیں پکڑتا جو توجہ دلاتا ہے اسے سزا دیتے ہیں۔حالانکہ سزا دینے والے کو کیا کریں۔وہ بھی تو شریعت کے غلام ہیں۔اگر تم قرآن کریم کی حکومت کو قائم کرنا چاہتے ہو۔تو اپنے پر بھی خدا تعالیٰ کی حکومت کو قائم کرو۔اگر تم یہ چاہتے ہو کہ دوسروں پر تو خدا تعالیٰ کی حکومت قائم ہو اور تم پر خدا تعالیٰ کی حکومت قائم نہ ہو تو یہ درست بات نہیں میں شکایت کرنے والے سے کہتا ہوں۔ایاز قدرے خود بشناس۔سیر حضرت اماں جان کے ساتھ (خطبات محمود جلد 33 صفحہ 271-270 ) | اس وقت پردہ میں اتنی شدت تھی کہ اپنی بیوی کو بھی ساتھ لے کر پھرنا لوگوں کی نگاہ میں معیوب سمجھا جاتا تھا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے تھے۔آپ آخری دنوں میں جب لاہور میں مقیم تھے۔تو با قاعدہ حضرت ام المومنین کو ساتھ لے کر سیر پر جایا کرتے تھے۔آپ چونکہ خود بھی بیمار تھے اور اعصاب کی بھی تکلیف تھی اور حضرت ام المومنین بھی بیمار رہتی تھیں۔اس لئے جب تک آپ لا ہور میں رہے روزانہ فٹن میں بیٹھ کر آپ سیر کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے اور حضرت ام المومنین بھی آپ کے ساتھ ہوتیں اور قادیان میں بھی یہی کیفیت تھی۔حضرت ام المومنین ہمیشہ سیر کے لئے جاتی تھیں اور ان کے ساتھ ان کی سہیلیاں وغیرہ بھی ہوا کرتی تھیں۔پس پردہ کے یہ معنی نہیں کہ عورتوں کو گھروں میں بند کر کے بٹھا دو۔وہ سیر وغیرہ کے لئے جاسکتی ہیں ہاں گھروں کے قہقہے سنے منع ہیں۔