تذکار مہدی — Page 784
تذکار مهدی ) 784 روایات سیّد نا محمود شور مچا دیں گے کہ مرزا صاحب اپنی بیوی کے ساتھ اسٹیشن پر پھر رہے تھے۔آپ نے فرمایا کہ آخر وہ کیا کہیں گے یہی کہیں گے نا کہ مرزا صاحب اپنی بیوی کو ساتھ لئے ہوئے پھر رہے تھے۔مولوی صاحب شرمندہ ہو کر واپس آگئے۔واقعی بات یہی تھی حضرت ام المومنین نے پردہ کیا ہوا تھا اور پھر میاں بیوی کا اکٹھے پھر نا قابل اعتراض بھی تو نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی بیویوں کے ساتھ پھرتے تھے۔ایک دفعہ لشکر کے سامنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ دوڑے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہار گئے اور حضرت عائشہ جیت گئیں۔دوسری دفعہ پھر دوڑے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیت گئے اور حضرت عائشہ ہار گئیں کیونکہ حضرت عائشہ کا جسم کچھ موٹا ہو گیا تھا۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا يَا عَائِشَه تِلْكَ بِتِلْكَ عائشہ اس ہار کے بدلہ میں یہ ہار ہوگئی۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ساتھ پھرنا معیوب خیال نہیں فرماتے تھے اور جس بات کی اجازت اسلام نے دی ہے۔اس کو عیب نہیں کہا جا سکتا۔پس اگر کوئی شخص کسی دوسرے پر اعتراض کرتا ہے۔تو اس کے یہ معنی ہیں کہ اس کے نزدیک یہ شخص اسلامی تعلیمات پر عمل نہیں کرتا لیکن شکایت کرنے والے نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ فلاں چھوٹے درجہ کا ہے۔فلاں کمینہ ہے۔(الفضل مورخہ 8اکتوبر 1952ء جلد 40/6 نمبر 235 صفحہ 3) اپنے او پر خدا تعالیٰ کی حکومت قائم کرو شریعت کے قواعد سے نہ تو میں آزاد ہوں نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آزاد ہیں اور نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آزاد ہیں۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود شریعت کے قواعد پر چلنے کے لئے مجبور تھے۔پس اس شخص نے بعض ایسے اعتراضات کئے ہیں جن پر شریعت حد لگاتی ہے اور شریعت نے ان کے لئے گواہی کا جو طریق مقر ر کیا ہے اُس طریق پر چلنا ضروری ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ فلاں نے قرآن کریم کا فلاں حکم تو ڑا ہے اسے سزا دو لیکن مجھے کچھ نہ کہو۔مجھے بچپن کا ایک لطیفہ یاد ہے۔اس وقت میں نے اس سے بہت مزہ اُٹھایا تھا اور اب بھی وہ مجھے یاد آتا ہے تو ہنسی آجاتی ہے۔پانچویں یا چھٹی جماعت میں میں پڑھتا تھا ہمارے استاد نے یہ طریق مقرر کیا ہوا تھا کہ ان کے سوال کا جواب جو طالب علم وقت مقررہ میں دے دے۔