تذکار مہدی — Page 776
تذکار مهدی ) 776 روایات سید نا محمود ہمارا سر خدا تعالیٰ کے سامنے اور زیادہ شکر گزاری کے ساتھ جھک جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں یہی سکول جواب تعلیم الاسلام ہائی سکول کہلاتا ہے قائم ہوا۔یہ سکول اس وقت قائم ہوا تھا۔جب میں ابھی نو دس سال کا تھا ہمارے بعض لڑکے آریہ سکول میں پڑھا کرتے تھے۔جو اس وقت قائم ہو چکا تھا اور ابھی مڈل تک تھا اور بعض لڑکے گورنمنٹ پرائمری سکول میں پڑھتے تھے۔جس کا ہیڈ ماسٹر اتفاقی طور پر آریہ تھا اور وہ ہر وقت بچوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کرتا رہتا تھا۔جس کی وجہ سے طلباء اپنے اپنے گھر جا کر اسی قسم کی باتیں کرتے تھے۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اب ہمارے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ ایک سکول کھولا جائے۔چنانچہ ایک پرائمری سکول قائم کیا گیا۔جو اسی سال مڈل تک ہو گیا اور پھر کچھ عرصہ بعد ہائی سکول بن گیا۔گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی یہ سکول قائم ہو گیا تھا۔پھر ایک وقت ایسا آیا کہ مخالفین نے جماعت پر شدت سے حملے کرنے شروع کر دیئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔اب ہمیں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے نئی جدوجہد کرنی چاہیئے اور آپ نے ایک مجلس شوری بلائی تا جماعت مشورہ دے کہ اس فتنہ کے مقابلہ میں ہم کیا کر سکتے ہیں۔اس وقت مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم بھی آئے ہوئے تھے۔انہوں نے سمجھا کہ ایسا نہ ہو کہ کوئی ایسی تحریک کر دی جائے جو ہماری کسی سکیم کے خلاف ہو۔مناسب یہی ہے کہ وہ خود ہی یہ تحریک کر دیں کہ ہائی سکول کو توڑ دیا جائے اور اس کی بجائے علماء کی ایک جماعت تیار کی جائے۔ہائی سکول اور بھی بہت ہیں اور ہمارے بچے ان میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔اس وقت علماء کی ضرورت ہے اور ان کے تیار کرنے کے لیے ایک دینیات کے سکول کی ضرورت ہے۔ہائی سکول کی ضرورت نہیں۔تعجب یہ ہے کہ وہی لوگ جو انگریزی زبان کے حامی تھے وہی اس بات پر آمادہ ہو گئے کہ ہائی سکول توڑ دیا جائے۔صرف حضرت خلیفۃ اسیح اول ایک ایسے شخص تھے۔جن کا خیال تھا کہ ہائی سکول کو توڑنا نہیں چاہیئے۔ہائی سکول بھی قائم رہے اور د مینیات کی تعلیم بھی دی جائے اور میرا خیال بھی یہی تھا۔حضرت خلیفتہ اسی اول کی عادت تھی کہ آپ اپنی بات کا زیادہ پرو پیگنڈا نہیں کرتے تھے۔ہاں ملنے جلنے والوں سے باتیں کر لیتے تھے لیکن یہ نہیں ہوتا تھا کہ عام لوگوں میں جا کر کوئی لیکچر دیں۔آپ نے ایک مضمون لکھا تا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تک پہنچ جائے اور آپ کے خیالات کا حضور کو علم ہو جائے۔آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا۔میاں سنا ہے کیا باتیں