تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 755 of 862

تذکار مہدی — Page 755

تذکار مهدی ) 755 روایات سید نا محمودی متواتر اور لمبے عرصہ کے روزوں سے منع کیا ہے۔تو اگر تمہیں کوئی خواب اس حکم کے خلاف آئی ہے۔تو وہ شیطانی سمجھی جائے گی۔خدائی نہیں سمجھی جائے گی۔اگر خدائی خواب ہوتی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کرتی۔آپ کی تردید کبھی نہیں کرتی۔پس جو خواب ایسی ہو جو قرآن کریم یا رسول کریم ﷺ کے فتویٰ اور سنت کے خلاف ہو۔وہ بہر حال رد کر نے کے قابل کرنے سمجھی جائے گی۔کیونکہ نہ تو قرآن کریم کے خلاف کوئی خواب سچی ہو سکتی ہے اور نہ سنت کے خلاف کوئی خواب سچی ہو سکتی ہے اور نہ صحیح حدیث کے خلاف کوئی خواب سچی ہوسکتی ہے۔حدیث کے متعلق زیادہ سے زیادہ کوئی کہہ دے گا کہ مشتبہ ہے۔لیکن قرآن اور سنت کو کیا کہے گا اور پھر عقل کو کہاں لے جاوے گا اکثر عقل بھی رسول کریم ﷺ کی حدیث کے ساتھ مل جاتی ہے تو پھر حدیث کو دو طاقتیں مل جاتی ہیں ایک تو احتمال ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا قول ہو اور دوسرے عقل سلیم نے کہہ دیا کہ وہ قول صحیح ہے ایسی صورت میں بہر حال وہ حدیث قابل عمل ہوگی۔(الفضل 25 /نومبر 1958 ء جلد 47/12 نمبر 272 صفحہ 3 ) جماعت احمدیہ لاہور کی تاریخی حیثیت انسان سمجھتا ہے اب اگر میں نے انکار کیا تو اس کی دل شکنی ہو گی۔غرض لاہور کی جماعت کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ابتدائی زمانہ میں آپ پر ایمان لے آئے اور اگر وہ نہیں تو ان کے رشتے دار ایسے موجود ہیں۔جو صحابی ہیں۔خواہ وہ ایسے مقام پر نہیں کہ دعوی سے پہلے انہوں نے آپ کی مدد کی ہو۔مگر وہ ایسے مقام پر ضرور ہیں کہ وہ اس وقت ہوش والے تھے اور عقل والے تھے جب انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبول کیا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ ان لوگوں کے خاندانوں میں اب وہ جوش نہیں رہا جو پہلے ہوا کرتا تھا کہ احمدیت کی خدمت میں انسان خدائی برکات سے حصہ لیتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ یہ احساس ساری جماعت میں پیدا ہو جائے گا۔جلسہ مذاہب عالم کے لیئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو آخری پیغام ”پیغام صلح کے نام سے دیا اور جو اپنے اندر وصیت کا ایک رنگ رکھتا ہے۔وہ بھی لاہور میں ہی پڑھا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ایام زندگی بھی اسی جگہ گزارے اور پھر یہیں آپ دنیا سے جدا ہو گئے۔اس کے بعد یہ خلافت کا جھگڑا پیدا ہوا۔تو مخالفت کا مرکز بھی یہیں لاہور بنا اور موافقت کا مرکز بھی یہیں لاہور بنا۔اس وقت