تذکار مہدی — Page 756
تذکار مهدی ) 756 روایات سید نا محمودی جماعت کی تعداد موجودہ تعداد سے بہت کم تھی۔باہر سے بھی اگر لوگ آ جاتے تو ان کو شامل کر کے یہاں کی جماعت اتنی نہ ہوتی تھی۔جتنی اس وقت خطبہ میں بیٹھی ہے۔مگر اس وقت اخلاص اور محبت کی یہ کیفیت تھی کہ جب میں لاہور میں آتا تو سینکڑوں لوگ ارد گرد کی جماعتوں میں سے لاہور میں آ جاتے۔اور یہاں کا ہر احمدی دوسرے احمدی کو اپنا بھائی سمجھتا تھا۔( تاریخ احمدیت لاہور صفحہ 19-18) حضرت قاضی محبوب عالم صاحب آف لاہور :۔نماز کے بعد میں ایک جنازہ پڑھاؤں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے صحابی قاضی محبوب عالم صاحب لاہور کا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ان کی یہ عادت تھی۔کہ وہ آپ کو ہر روز دعا کے لئے خط لکھتے تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک جگہ پر شادی کرنا چاہتے تھے۔لیکن فریق ثانی رضا مند نہیں تھا اس لئے وہ روزانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خط لکھتے کہ حضور دعا فرمائیں کہ یا تو لڑکی مجھے مل جائے یا اللہ تعالیٰ میرا دل اس سے پھیر دے۔اب مجھے یاد نہیں رہا کہ آیا ان کا دل پھر گیا تھا۔یا ان کی اس لڑکی سے شادی ہوگئی۔بہر حال دونوں میں سے ایک بات ضرور ہوئی تھی۔پھر نہ صرف وہ خود اس نشان کے حامل تھے۔بلکہ ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور شخص کو بھی اپنے نشان کا حامل بنایا۔ہمارے ایک دوست ماسٹر عبدالعزیز صاحب تھے، جنہوں نے قادیان میں طبیہ عجائب گھر کھولا ہوا تھا۔اس وقت ان کا لڑکا مبارک احمد دواخانہ چلا رہا ہے اور ان کی دوائیاں بہت مقبول ہیں۔انہوں نے قاضی محبوب عالم کے متعلق سنا ہے کہ وہ ہر روز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس قسم کے خط لکھا کرتے تھے۔تو انہوں نے بھی روزانہ خط لکھنا شروع کر دیا۔انہیں بھی ایک ذیلدار کی لڑکی سے جو ان کے ماموں یا پھوپھا تھے محبت تھی۔وہ روزانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لکھتے اور کہتے حضور دعا فرمائیں کہ قاضی محبوب عالم صاحب کی طرح یا تو میرا دل اس لڑکی سے پھر جائے اور یا پھر میری شادی اس لڑکی سے ہو جائے۔چنانچہ ان کی وہاں شادی ہو گئی اور مبارک احمد اسی بیوی سے ہے۔گویا قاضی صاحب نہ صرف خود ایک نشان کے حامل تھے۔بلکہ ایک دوسرے نشان کے محرک بھی تھے۔انہوں نے اپنی زندگی میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ میں ان کا جنازہ پڑھاؤں۔الفضل 27 جولائی 1956 ءجلد 45/10 نمبر 173 صفحہ 5)