تذکار مہدی — Page 746
تذکار مهدی ) 6746 روایات سید نا محمود نے یہ کہہ کر روزہ کھلوا دیا کہ سفر میں روزہ رکھنا نا جائز ہے۔اس پر اتنی لمبی بحث اور گفتگو ہوئی کہ حضرت خلیفہ اول نے سمجھا کہ شاید کسی کو ٹھوکر لگ جائے اس لئے آپ ابن عربی کا ایک حوالہ دوسرے دن تلاش کر کے لائے کہ وہ بھی یہی کہتے ہیں۔اس واقعہ کا مجھ پر یہ اثر تھا کہ میں سفر میں روزہ رکھنے سے روکتا تھا۔اتفاق ایسا ہوا کہ ایک رمضان میں مولوی عبداللہ سنوری صاحب یہاں رمضان گزارنے کے لئے آئے تو انہوں نے کہا میں نے سنا ہے آپ باہر سے یہاں آنے والوں کو روزہ رکھنے سے منع کرتے ہیں۔مگر میری روایت ہے کہ یہاں ایک صاحب آئے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے عرض کیا کہ مجھے یہاں ٹھہرنا ہے اس دوران میں میں روزے رکھوں یا نہ رکھوں؟ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔ہاں آپ روزے رکھ سکتے ہیں کیونکہ قادیان احمدیوں کے لئے وطن ثانی ہے۔گو مولوی عبد اللہ صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بڑے مقرب تھے مگر میں نے صرف ان کی روایت کو قبول نہ کیا اور لوگوں کی اس بارے میں شہادت کی تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قادیان کی رہائش کے ایام میں روزہ رکھنے کی اجازت دیتے تھے البتہ آنے اور جانے کے دن روزہ رکھنے کی اجازت نہ دیتے تھے۔اس وجہ سے مجھے پہلا خیال بدلنا پڑا۔پھر جب اس دفعہ رمضان میں سالانہ جلسہ آنے والا تھا اور سوال اٹھا کہ آنے والوں کو روزہ رکھنا چاہیئے یا نہیں تو ایک صاحب نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جب جلسہ رمضان میں آیا تو ہم نے خود مہمانوں کو سحری کھلائی تھی ان حالات میں جب میں نے یہاں جلسہ پر آنے والوں کو روزہ رکھنے کی اجازت دی تو یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہی فتویٰ ہے۔پہلے علماء تو سفر میں روزہ رکھنا بھی جائز قرار دیتے رہے ہیں اور آج کل کے سفر کو تو غیر احمدی مولوی سفر ہی نہیں قرار دیتے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سفر میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔پھر آپ نے ہی یہ بھی فرمایا کہ یہاں قادیان میں آکر روزہ رکھنا جائز ہے۔اب یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہم آپ کا ایک فتویٰ تو لے لیں اور دوسرا چھوڑ دیں۔خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ عید تو ہے چاہے کرو یا نہ کرو۔تو انہیں میں کیا کہوں جب کہ خدا تعالیٰ نے عید کرنا ان کی مرضی پر چھوڑا۔فقہاء نے یہی بحث کی ہے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھنا چاہیئے اور چاند دیکھ کر عید کرنی چاہیئے کیونکہ وہ ظاہری طور پر ہی مسئلہ بیان کر سکتے تھے۔مگر