تذکار مہدی — Page 745
تذکار مهدی ) 745 روایات سید نا محمود سختی کریں کہ جان چلی جائے اور نہ اتنی نرمی اختیار کریں کہ شریعت کے احکام کی ہتک ہو اور ذمہ داری کو بہانوں سے ٹال لیا جائے۔کئی لوگ کمزوری کے بہانہ کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتے۔بعض کہہ دیتے ہیں کہ اگر روزہ رکھا جائے تو پیچش ہو جاتی ہے۔بعض کہتے ہیں ضعف ہو جاتا ہے حالانکہ روزہ چھوڑنے کے لئے یہ کوئی کافی وجہ نہیں کہ پیچش ہو جایا کرتی ہے۔جب تک پیچش نہ ہو روزہ رکھنا ضروری ہے۔جب پیچش ہو جائے پھر بے شک چھوڑ دے۔اسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں ہمیں روزہ رکھنے سے ضعف ہو جاتا ہے۔یہ بھی کوئی دلیل نہیں روزہ چھوڑنے کی۔صرف اُس ضعف کی وجہ سے روزہ چھوڑنا جائز ہے جس میں ڈاکٹر روزہ رکھنے سے منع کرے ور نہ یوں تو بعض لوگ ہمیشہ ہی کمزور رہتے ہیں تو کیا وہ کبھی بھی روزہ نہ رکھیں؟ خطبات محمود جلد 20 صفحہ 452 تا 454 ) سفر اور بیماری میں روزہ مجھے خوب یاد ہے غالباً مرزا یعقوب بیگ صاحب جو آجکل غیر مبائع ہیں اور ان کے لیڈروں میں سے ہیں ایک دفعہ باہر سے آئے عصر کا وقت تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے زور دیا کہ روزہ کھول دیں اور فرمایا سفر میں روزہ جائز نہیں۔اسی طرح ایک دفعہ بیماریوں کا ذکر ہوا تو فرمایا۔ہمارا مذہب یہی ہے کہ رخصتوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے ، دین سختی نہیں بلکہ آسانی سکھاتا ہے۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ بیمار اور مسافر اگر روزہ رکھ سکے تو رکھ لے ہم اسے درست نہیں سمجھتے۔اس سلسلہ میں خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے محی الدین ابن عربی کا قول بیان کیا کہ سفر اور بیماری میں روزہ رکھنا آپ جائز نہیں سمجھتے تھے اور ان کے نزدیک ایسی حالت میں رکھا ہو ا روزہ دوبارہ رکھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سن کر فرمایا۔ہاں ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے۔(خطبات محمود جلد 13 صفحہ 37 ) سفر میں روزہ رکھنا جائز نہیں زمانہ خلافت کے پہلے ایام میں سفر میں روزہ رکھنے سے میں منع کیا کرتا تھا کیونکہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا تھا کہ آپ مسافر کو روزہ رکھنے کی اجازت نہ دیتے تھے۔ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ مرزا ایوب بیگ صاحب رمضان میں آئے اور انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن عصر کے وقت جب کہ وہ آئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام