تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 725 of 862

تذکار مہدی — Page 725

تذکار مهدی ) 725 روایات سید نا محمود ثابت ہے کہ عیدین وغیرہ مواقع پر صحابہ خصوصیت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مصافحہ کیا کرتے مگر مجھے شبہ ہے کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر نماز کے وقت مصافحہ کرنا دینی ضرورتوں میں سے کوئی ضرورت ہے۔بعض لوگ محبت میں گداز ہوتے ہیں۔میں ان کو الگ کرتا ہوں کیونکہ ان پر کوئی قانون جاری نہیں ہو سکتا۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں سارا سارا دن اس کھڑکی کے سامنے بیٹھے رہتے جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام باہر آیا کرتے تھے اور جب باہر آتے تو وہ آپ سے مصافحہ کرتے یا آپ کے کپڑوں کو ہی چھو لیتے۔ایسے لوگ محبت کی وجہ سے مجبور ہوتے ہیں۔مگر مجھے شبہ ہے کہ بعض لوگ دوسروں کو دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہر وقت مصافحہ کرنا ضروری ہے۔مصافحہ کا اصل وقت تو وہ ہوتا ہے جب کوئی شخص باہر جا رہا ہو یا باہر سے آیا ہو۔یا ساتویں آٹھویں دن اس لئے مصافحہ کرے کہ تا دعاؤں میں اسے یاد رکھا جائے اور اس کا تعارف قائم رہے یا کسی بیمار نے بیماری سے شفا پائی ہو تو وہ یہ بتانے کے لئے مصافحہ کرے کہ اب وہ اچھا ہو گیا ہے یہ اور چیز ہے۔مگر بالالتزام بغیر اس کے کہ نفس اس مقام پر پہنچا ہوا ہو کہ انسان مصافحہ کرنے پر مجبور ہو جائے دوسروں کو دیکھ کر یہ کام کرنا کوئی پسندیدہ امر نہیں۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں قاضی سید امیرحسین صاحب مرحوم جو کہ میرے استاد بھی تھے بوجہ اس کے کہ وہ اہلحدیث میں سے آئے تھے بعض مسائل میں اختلاف تھا۔ایک دفعہ یہ سوال زیر بحث تھا کہ مجلس میں کسی بڑے آدمی کے آنے پر کھڑا ہونا جائز ہے یا نہیں؟ قاضی سید امیرحسین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ یہ شرک ہے اور رسول کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔آخر یہ جھگڑا اتنا طول پکڑ گیا کہ اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے پیش کیا گیا۔اس وقت یہ سوال ایک رقعہ پر لکھا گیا اور میں رقعہ لے کر اندر گیا۔اس وقت اگرچہ میں طالب علم تھا مگر چونکہ مذہبی باتوں سے مجھے بچپن سے ہی دلچسپی رہی ہے اس لئے میں ہی وہ رقعہ اندر لے گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے جواب میں زبانی کہا یا تحریر کیا مجھے اچھی طرح یاد نہیں۔خیال یہی آتا ہے کہ آپ نے تحریر فرمایا کہ دیکھو وفات کے موقع پر کوئی ایسی حرکت کرنا جیسے دو ہتر مارنا شریعت نے سخت ناجائز قرار دیا ہے، لیکن جہاں تک مجھے خیال ہے روایت تو صحیح یاد نہیں ، آپ نے غالباً حضرت عائشہ کا ذکر کیا کہ