تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 714 of 862

تذکار مہدی — Page 714

تذکار مهدی ) 714 روایات سید نا محمود مسجد میں آ کر لوگوں سے کہنے لگا کہ میں نے غور کیا ہے وفات مسیح کا یہ ثبوت ہے اور صداقت مسیح موعود کا یہ ثبوت ہے اور خود ہی دلائل دینے لگ گیا۔گویا اللہ تعالیٰ نے خود ہی اُسے دلائل سکھا دیئے اور اس نے بیعت کر لی۔پھر وہ شخص اپنے ملک کو واپس چلا گیا۔جب میں حج کو گیا تو مجھے وہاں جا کر معلوم ہوا کہ وہاں لوگ کہتے ہیں کہ یہاں ایک شخص یوسف نامی تھا۔وہ ایک قافلہ کے ساتھ مل کر ایک ہندوستانی کو مسیح و مہدی کہتا تھا اور لوگوں کو باتیں سناتا جاتا تھا اور قافلے کے ساتھ ساتھ چلتا جاتا تھا۔لوگ اس کو مارتے اور وہ بیہوش ہو جاتا مگر جب اسے ہوش آتا تو وہ بھاگ کر پھر قافلے سے آ ماتا اور تبلیغ کرنے لگ جاتا۔پھر معلوم نہیں اُس کو مار دیا گیا یا وہ فوت ہو گیا۔عرب میں اس کا کوئی پتہ نہیں لگ سکا۔غرض جب اللہ تعالیٰ نے اُس کو سمجھایا تو اُس نے اس قدر جوش سے تبلیغ کی کہ جس کی نظیر مشکل سے ملتی ہے۔پس کہیں کہیں ایسے واقعات بھی رونما ہو جاتے ہیں۔ایک رئیس سے مکالمہ،انوارالعلوم جلد 14 صفحہ 303) نائی کے پاس مرحم کا نسخہ سید احمد نور صاحب کابلی کے ناک پر زخم تھا۔انہوں نے کئی علاج کرائے لاہور کے میوہسپتال میں گئے ایکسرے کرا کر علاج کرایا۔مگر زخم اور بھی خراب ہوتا گیا۔آخر وہ پشاور گئے اور وہاں ایک نائی سے علاج کرایا۔اس نے صرف تین روز دوائی استعمال کرائی اور زخم اچھا ہو گیا۔تو اب بھی ایسے ماہرین فن موجود ہیں۔جن کو ایسے ایسے پیشے آتے ہیں کہ اگر انہیں زندہ رکھا جائے۔تو ان سے آگے کئی نئے پیشے جاری ہو سکتے ہیں۔لیکن ان کے جاننے والے چونکہ انہیں زندہ رکھنے کی کوشش نہیں کرتے اس لئے وہ ترقی نہیں کر رہے۔اگر ان کی طرف لوگوں کو توجہ ہو تو ان سے آگے کئی فنون نکل سکتے ہیں۔مثلاً یہی ہڈیوں کا ٹھیک کرنا ہے۔پہلوان اور نائی اسے جانتے ہیں اور اس سے پرانی دردوں اور ٹیڑھی ہڈیوں کو درست کیا جا سکتا ہے۔اسے سیکھ کر پھیلانے کی کوشش کرنی چاہئے۔پرانے زمانہ میں لوگ ان پیشوں کے اظہار میں بہت بخل سے کام لیتے تھے اور کوئی کسی کو بتاتا نہ تھا اس لئے وہ مٹ گئے یورپ والے ایسا نہیں کرتے بلکہ اپنے فن کو عام کر دیتے ہیں۔اس سے وہ روپیہ بھی زیادہ کما سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک نائی تھا جسے ایسی مرہم کا علم تھا۔جس سے بڑے بڑے خراب زخم اچھے ہو جاتے تھے۔لوگ دور دور سے اس کے پاس علاج کرانے کے لئے آتے تھے۔اس کا بیٹا اس کا نسخہ پوچھتا تو وہ جواب