تذکار مہدی — Page 715
6715 تذکار مهدی ) روایات سید نا محمود دیتا کہ اس کے جاننے والے دنیا میں دو نہیں ہونے چاہئیں۔آخر وہ بوڑھا ہو گیا اور سخت بیمار ہوا۔تو اس کے بیٹے نے کہا کہ اب تو بتادیں وہ کہنے لگا کہ اچھا اگر تم سمجھتے ہو میں مرنے لگا ہوں تو بتا دیتا ہوں۔مگر پھر کہنے لگا کہ کیا پتہ میں اچھا ہی ہو جاؤں اور اس لئے پھر بتانے سے رک گیا۔چند گھنٹوں بعد اس کی جان نکل گئی اور اس کا بیٹا اس فن سے محروم رہ گیا وہ آرام سے بیٹھا تھا اور مطمئن تھا کہ گھر میں فن موجود ہے۔لیکن وہ اس کے کسی کام نہ آسکا۔تو بخل ترقی کا نہیں بلکہ ذلت اور رسوائی کا موجب ہوتا ہے بلکہ بعض دفعہ خاندانوں کی تباہی کا موجب ہو جاتا ہے۔تو ان پیشوں اور فنون کا سکھا نا مضر نہیں بلکہ مفید ہے۔اس سے علم ترقی کرتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یہ فنون خصوصاً مردہ فنون کو ترقی دی جائے۔فنون بالکل مٹ گئے ہیں الفضل 29 را پریل 1939 ء جلد 27 نمبر 98 صفحہ 4) مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام دہلی تشریف لے گئے بعد میں آپ نے نانا جان میر ناصر نواب صاحب کو بھی وہاں بلا لیا۔وہاں نانا جان کے پیٹ میں شدید درد ہوئی ڈاکٹروں کو دکھایا گیا تو انہوں نے بتایا یہ اپنڈے سائٹس (APPENDICITIS) ہے اور اُس کا آپریشن کرانا پڑے گا۔اور آپریشن بھی تین چار گھنٹے کے اندر اندر کرانا پڑے گا ورنہ مریض کی جان خطرے میں ہے۔آپ مریض کو فوری طور پر ہسپتال بھیج دیں۔میر صاحب کا دل کمزور تھا۔وہ آپریشن سے گھبراتے تھے۔انہوں نے کہا آپریشن سے بھی مرنا ہے اور یوں بھی مرنا ہے۔آپ میرا کوئی اور علاج کریں آپریشن نہ کرائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو علم ہوا تو آپ نے فرمایا آپریشن میں زبردستی تو نہیں کی جاسکتی۔مریض کی مرضی سے ہی آپریشن کروایا جاسکتا ہے۔اگر میر صاحب آپریشن کروانا پسند نہیں کرتے تو کسی طبیب سے علاج کرایا جائے۔چنانچہ ایک پرانا طبیب بلایا گیا۔اُس نے آپ کو دیکھا اور کہا کہ میں ابھی دوا بھجواتا ہوں۔وہ دوا مریض کو کھلا دی جائے اور ایک دوا پیٹ پر لگا دی جائے درد ہٹ جائے گا۔چنانچہ انہوں نے دوا بھجوائی اور وہ میر صاحب کو کھلائی گئی اور دوسری دوا پیٹ پر لگائی گئی۔ہمیں پچپیں منٹ کے بعد آپ سو گئے اور چار پانچ گھنٹے کے بعد آپ بالکل تندرست ہو گئے اور چلنے پھرنے لگ گئے۔اب دیکھو ایک طرف ڈاکٹر کہتا تھا یہ اپنڈے سائٹس (APPENDICITIS) ہے