تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 696 of 862

تذکار مہدی — Page 696

تذکار مهدی ) 696 روایات سیّد نا محمود نامحمودی خدا تعالیٰ منع کر دے کہ ایسی دعا نہ مانگو۔جو شخص اس طرح اصرار کے ساتھ دعا مانگتا ہے۔اسی کو ملتا ہے پس اصرار ایک ایسی چیز ہے کہ دعا کے لئے ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے۔گداگر دو قسم کے ہوتے ہیں ایک نرگرا اور دوسرے خر گدا۔نرگرا وہ ہوتا ہے جوکسی کے دروازے پر جا کر آواز دیتا ہے کچھ دو اور کسی نے کچھ ڈال دیا تو لے لیا نہیں تو دو تین آواز میں دے کر آگے چلے گئے۔مگر خر گدا وہ ہوتا ہے کہ جب تک نہ ملے ٹلتا نہیں۔اس قسم کے گدا گر لئے بغیر پیچھا نہیں چھوڑتے اور ایسے گداگر بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس بھی آکر ایک شخص بیٹھا کرتا تھا وہ نہیں اٹھتا تھا جب تک کچھ لے نہ لیتا وہ بیٹھا رہتا تھا جب تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام باہر نہیں نکلتے اور اسے کچھ دے نہ دیتے۔پھر بعض اوقات وہ رقم مقرر کر دیتا کہ اتنی لینی ہے اور اگر حضرت صاحب اس سے کم دیتے تو وہ ہرگز نہ لیتا۔کئی دفعہ ایسا ہوا کہ مہمان اسے اتنی رقم پوری کر دیتے تھے کہ چلا جائے۔میں نے دیکھا اگر اس کے منہہ سے کوئی رقم نکل گئی کہ یہ لینی ہے اور وہ پوری نہ ہوتی تو وہ جاتا نہ تھا جب تک رقم پوری نہ کر دی جاتی اور اگر حضرت صاحب بیمار ہوتے تو تب تک نہ جاتا جب تک صحت یاب ہو کر آپ باہر تشریف نہ لاتے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے دعا کی قبولیت کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان خرگدا بنے اور مانگتا چلا جائے اور خدا کے حضور دھونی رما کے بیٹھ جائے اور ٹلے نہیں جب تک کہ خدا کا فعل ثابت نہ کر دے کہ اب اس کے متعلق دعا نہ کی جائے۔قانون قدرت کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا خطبات محمود جلد 10 صفحہ 200 ) ہمارے ملک میں مثل مشہور ہے کہ ” جاندے چور دی لنگوٹی ہی سہی، یعنی جاتے چور کی لنگوٹی ہی سہی۔اگر چور چوری کر کے بھاگا جا رہا ہو اور تم اس سے اور کچھ نہیں چھین سکتے تو اس کی لنگوٹی ہی چھین لو آخر کچھ نہ کچھ تو تمہارے ہاتھ آ جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ایک فقیر تھا جو اکثر اُس کمرے کے سامنے جہاں پہلے محاسب کا دفتر تھا بیٹھا کرتا تھا۔جب اُسے کوئی آدمی احمد یہ چوک میں سے آتا ہوا نظر آتا تو کہتا ایک روپیہ دیدے، جب آنے والا کچھ قدم آگے آجاتا تو کہتا اٹھنی ہی سہی۔جب وہ کچھ اور آگے آتا تو کہتا چونی ہی سہی،