تذکار مہدی — Page 694
تذکار مهدی ) 694 روایات سید نامحمود آخر اس نے بادشاہ کے پاس شکایت کی۔بادشاہ نے کہا کہ عدالت کے طور پر تو میں تمہارے خلاف فیصلہ کرنے پر مجبور ہوں کیونکہ کوئی تحریر نہیں، گواہ نہیں ، ہاں ایک ترکیب بتاتا ہوں اگر تم بچے ہو تو اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔فلاں دن ہمارا جلوس نکلے گا اور قاضی بھی اپنی ڈیوڑھی کے آگے موجود رہے گا تم بھی کہیں اس کے پاس کھڑے ہو جانا۔میں تمہارے پاس پہنچ کر تمہارے ساتھ بے تکلفی سے بات چیت شروع کروں گا کہ تم ہمیں ملنے کیوں نہیں آتے اتنے عرصہ سے ملاقات نہیں ہوئی اور تم کہنا کہ یونہی کچھ پریشانیاں کی تھیں اس لئے حاضر نہیں ہو سکا۔اس شخص نے ایسا ہی کیا اور جلوس کے دن قاضی صاحب کے پاس ہی کھڑا ہو گیا۔بادشاہ آیا تو بادشاہ نے قاضی کی بجائے اس شخص سے مخاطب ہو کر بات شروع کر دی اور کہا تم کہاں چلے گئے تھے، عرصہ سے ملاقات نہیں ہوئی اس نے اپنے سفر کا حال بتایا۔پھر بادشاہ نے پوچھا واپسی پر کیوں نہیں ملے۔اس نے جواب دیا کہ یونہی بعض پریشانیاں تھیں، کچھ وصولیاں وغیرہ کرنی تھیں۔بادشاہ نے اسے کہا نہیں تمہیں ضرور ملنا چاہئے، جلدی جلدی آیا کرو۔جب بادشاہ کا جلوس گزر گیا تو قاضی صاحب نے اس سے کہا کہ میاں ذرا بات تو سنو۔تم اس دن آئے تھے اور کسی امانت کا ذکر کرتے تھے۔میں اب بوڑھا ہو گیا ہوں ، عقل اچھی طرح کام نہیں کرتی ، کچھ آتا پتا بتاؤ تو یاد آئے۔اس نے پھر وہی باتیں یاد دلائیں جو پہلے کئی بار یاد دلا چکا تھا۔اس پر قاضی صاحب کہنے لگے۔اچھا فلاں قسم کی تحصیلی تمہاری ہی ہے وہ تو پڑی ہے لے جاؤ، اور لا کر رو پیدا اسے دے دیا۔یہ قصہ سنا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام فرمایا کرتے تھے کہ دنیا کی مخالفت سے کیا ڈرنا۔کوئی بڑے سے بڑا جرنیل بھی تو تلواروں اور گولیوں وغیرہ سے ہی نقصان پہنچا سکتا ہے۔مگر یہ ساری چیزیں ہمارے خدا کی ہیں۔اگر وہ کہے کہ اس طرف وار نہ کرو تو کون کر سکتا ہے۔پس بندہ کو اللہ تعالیٰ سے دوستی کرنی چاہئے ، اس سے محبت کرنی چاہئے ، ڈر سے یا مرنے مارنے سے کام نہیں بنتا۔ترقی کی یہی راہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو خدا کے ہاتھ میں دے دے اور جس طرف وہ لے جانا چاہے ، چلتا جائے۔( خطبات محمود جلد 15 صفحہ 273 تا 275 ) مہمان کا احسان جو چوری نہیں کی غرض انسان کے لئے جنت و دوزخ پیدا کرنا خود اس کے اختیار میں ہوتا ہے چاہے تو وہ اپنے لئے دوزخ پیدا کرے اور چاہے تو جنت۔جنت کے حاصل کرنے کے لئے قربانیوں کی