تذکار مہدی — Page 688
تذکار مهدی ) 688 روایات سید نا محمود بلکہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب بہت اچھا اور یہ کہہ کر کام کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد سوچتے ہیں کہ اب انہیں کیا کرنا چاہئے۔یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس رات کیا۔خدا نے کہا اٹھ اور دنیا کی ہدایت کے لئے کھڑا ہو اور وہ فوراً کھڑے ہو گئے اور پھر سوچنے لگے کہ اب میں یہ کام کس طرح کروں گا۔پس آج سے پچاس سال پہلے کی وہ تاریخی رات جو دنیا کے آئندہ انقلابات کے لئے زبر دست حربہ ثابت ہونے والی ہے۔جو آئندہ بننے والی نئی دنیا کے لئے ابتدائی رات اور ابتدائی دن قرار دی جانے والی ہے۔اگر ہم اس رات کا نظارہ سوچیں تو یقیناً ہمارے دل اس خوشی کو بالکل اور نگاہ سے دیکھیں۔ہم میں سے کتنے ہیں۔جو یہ سوچتے ہیں کہ یہ خوشی انہیں کس گھڑی کے نتیجہ میں ملی یہ مسرت انہیں کس پل کے نتیجہ میں حاصل ہوئی اور کس رات کے بعد ان پر کامیابی و کامرانی کا یہ دن چڑھا۔یہ خوشی اور یہ مسرت اور یہ کامیابی و کامرانی کا دن ان کو اس گھڑی اور اس رات کے نتیجہ میں ملا جس میں ایک تن تنہا بندہ جو دنیا کی نظروں میں حقیر اور تمام دنیوی سامانوں سے محروم تھا۔اسے خدا نے کہا کہ اٹھ اور دنیا کی ہدایت کے لئے کھڑا ہو اور اس نے کہا اے میرے رب میں کھڑا ہو گیا۔یہ وہ وفاداری تھی۔یہ وہ محبت کا صحیح مظاہرہ تھا۔جسے خدا نے قبول کیا اور اس نے اپنے فضل اور رحم سے اس کو نوازا۔رونا اور ہنسنا دونوں ہی اللہ تعالیٰ کی شان سے بعید ہیں لیکن محبت کی گفتگو میں اور محبت کے کلاموں میں یہ باتیں آہی جاتی ہیں۔پس میں کہتا ہوں اگر خدا کے لئے بھی رونا ممکن ہوتا۔اگر خدا کے لئے بھی ہنسنا ممکن ہوتا۔تو جس وقت خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کہا کہ میں تجھے دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑا کرتا ہوں اور آپ فوراً کھڑے ہو گئے اور آپ نے یہ سوچا تک نہیں کہ یہ کام مجھ سے ہوگا کیونکر؟ اگر اس وقت خدا تعالیٰ کے لئے رونا ممکن ہوتا۔تو میں یقیناً جانتا ہوں کہ خدا رو پڑتا اور اگر خدا کے لئے ہنسنا ممکن ہوتا۔تو وہ یقینا ہنس پڑتا۔وہ ہنستا بظاہر اس بیوقوفی کے دعوی پر جو تمام دنیا کے مقابلہ میں ایک نحیف و ناتواں وجود نے کیا اور وہ رو پڑتا اس جذبہ محبت پر جو اس تن تنہا روح نے خدا کے لئے ظاہر کیا۔یہی سچی دوستی تھی جو خدا کو منظور ہوئی اور اسی رنگ کی سچی دوستی ہی ہوتی ہے جو دنیا میں کام آیا کرتی ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہی واقعہ سنا ہوا ہے کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو ہمیشہ یہ نصیحت کیا کرتا تھا کہ تم جلدی لوگوں کو دوست بنا