تذکار مہدی — Page 669
669 تذکار مهدی ) روایات سید نا محمودی دل میں یہ بات سن کر خیال پیدا ہوا کہ کل میں نے حسین سے برا بھلا سنا اور انہوں نے مجھ پر سختی کی۔اب اگر حسین معافی مانگنے کے لئے میرے پاس پہلے پہنچ گئے اور انہوں نے صلح کر لی تو میں دونوں جہان سے گیا کہ یہاں بھی مجھ پر سختی ہو گئی اور اگلے جہان میں بھی میں پیچھے رہا۔چنانچہ میں نے یہی فیصلہ کیا کہ مجھ پر جو سختی ہو گئی ہے وہ تو ہوگئی۔اب میں ان سے پہلے معافی مانگ لوں تا کہ اس کے بدلہ میں مجھے جنت تو ان سے پانچ سو سال پہلے مل جائے۔یہ خواہش تھی جو انہیں نیکیوں میں ترقی کرنے کی طرف لے جاتی تھی۔بات سننا اور کان سے نکال دینا یہ کوئی مفید طریق نہیں۔ہزار بات سننے اور عمل نہ کرنے سے یہ زیادہ بہتر ہے کہ انسان ایک بات سنے اور اس پر عمل کرے۔جو ( خطبات محمود جلد 25 صفحہ 341-340 ) | صرف زبان سے اطاعت کا دعوی کرنا کوئی بات نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک واقعہ سنایا کرتے تھے فرماتے تھے، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاں یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں، مجھے صحیح یاد نہیں چوری ہوگئی اور ان کا کچھ زیور چُرایا گیا۔ان کا ایک نوکر تھا وہ شور مچاتا پھرے کہ ایسے کم بخت بھی دنیا میں موجود ہیں جو خدا تعالیٰ کے خلیفہ کے ہاں چوری کرتے ہوئے بھی نہیں شرماتے۔وہ چوری کرنے والے پر بے انتہاء لعنتیں ڈالے اور کہے خدا اس کا پردہ فاش کرے اور اسے ذلیل کرے۔آخر تحقیقات کرتے کرتے پتہ لگا کہ ایک یہودی کے ہاں وہ زیور گرو رکھا ہوا ہے۔جب اُس یہودی سے پوچھا گیا کہ یہ زیور کہاں سے تمہیں ملا ؟ تو اس نے اسی نوکر کا نام بتلا یا جو شور مچا تا اور چور پر لعنتیں ڈالتا پھرتا تھا۔تو منہ سے لعنتیں ڈال دینا یا زبان سے فرمانبرداری کا دعویٰ کرنا کوئی چیز نہیں عمل اصل چیز ہوتی ہے۔ورنہ منہ سے اطاعت کا دعویٰ کرنے والا سب سے زیادہ منافق بھی ہوسکتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ لوگ جنہوں نے تحریک جدید میں وعدہ کیا اور پھر اُسے پورا نہیں کیا منافق ہیں مگر کئی تھے جنہوں نے پہلے سال وعدہ کیا اور پھر وعدہ پورا بھی کیا مگر دوسرے سال کی تحریک میں آکر رہ گئے۔ایسے لوگ یک سالہ مومن تھے اُن کی دوڑ پہلے سال میں ہی ختم ہوگئی دوسرے سال کی دوڑ میں وہ شریک نہ ہو سکے۔یہی وجہ ہے کہ وہ پہلے سال شور مچاتے تھے کہ جو قربانی لینی ہے ابھی لے لو۔ایسے تمام لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ میں نے اسی لئے تحریک جدید