تذکار مہدی — Page 657
تذکار مهدی ) 657 روایات سید نا محمودی الله چیزیں بہت سستی تھیں۔ایک روپے کا دس پندرہ من غلہ اور چار پانچ سیر گھی آ جاتا تھا۔ایک روپیہ کا ڈیڑھ سیر تو میری ہوش میں بھی تھا۔جب چار پانچ سیر روپے کا گھی سیر ڈیڑھ سیر ہو گیا۔تو لوگوں میں شور مچ گیا کہ گھی کا قحط پڑ گیا ہے۔لیکن اب پانچ روپے سیر بک رہا ہے۔پس آجکل روپے کی قیمت اس وقت کے ایک آنے سے بھی کم ہے۔اس لحاظ سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جس کے پاس اس وقت ایک لاکھ روپیہ تھا آج کے لحاظ سے اُس کے پاس بیس پچیس لاکھ روپیہ تھا۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ بھی ان لوگوں میں سے تھیں جو کہ مکہ میں مالدار سمجھے جاتے تھے۔آپ نے اپنی تمام جائداد اور روپیہ رسول کریم ﷺ کو دے دیا تھا۔اس کے علاوہ رسول کریم ﷺ کو کچھ مکان وغیرہ ورثہ میں بھی ملے تھے۔لیکن ہجرت کرنے کی وجہ سے وہ سب آپ کو چھوڑنے پڑے۔جب مکہ فتح ہوا تو صحابہ نے عرض کیا یا رَسُولَ الله ! آپ کس مکان میں ٹھہریں گے؟ آپ نے جو جواب دیا وہ ایسا دردناک تھا کہ اس کو پڑھ کر انسان کو معلوم ہوسکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو کس قدر مالی قربانیاں کرنی پڑیں۔آپ نے فرمایا کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی جگہ مکہ میں چھوڑی ہے کہ ہم اس میں ٹھہریں؟ ہمارے خیمے وہاں لگاؤ جہاں کفار مکہ نے قسمیں کھائی تھیں کہ ہم محمد (رسول اللہ ﷺ ) اور اس کے ساتھیوں کو تباہ کر دیں گے۔کتنی بڑی قربانی ہے جو رسول کریم ﷺ نے کی۔ہمارے چندے ان قربانیوں کے مقابل پر کیا حیثیت رکھتے ہیں۔( خطبات محمود جلد 27 صفحہ 447 تا 448) روزہ ملازمہ۔ہم بچپن میں ایک قصہ سنا کرتے تھے۔جسے سن کر ہنسا کرتے تھے۔حالانکہ درحقیقت وہ ہنسنے کے لئے نہیں۔بلکہ رونے کے لئے بنایا گیا تھا۔اور اس میں موجودہ مسلمانوں کا ہی نقشہ کھینچا گیا تھا۔مگر اس قصہ کے بنانے والے نے اشارے کی زبان مسلمانوں کی حالت کو بیان کیا تا کہ مولوی اس کے پیچھے نہ پڑ جائیں۔وہ قصہ یہ ہے کہ کوئی لونڈی تھی۔جو سحری کے وقت با قاعدہ اٹھا کرتی مگر روزہ نہیں رکھتی تھی۔مالکہ نے سمجھا کہ شائد یہ کام میں مدد دینے کے لئے اٹھتی ہے۔مگر چونکہ وہ روزہ نہیں رکھتی تھی اس لئے مالکہ نے خیال کیا کہ اسے خواہ مخواہ سحری کے وقت تکلیف دینے کی کیا ضرورت ہے۔اس وقت کا کام میں کر لیا کروں گی۔چنانچہ دو چار دن کے بعد مالکہ اس سے کہنے لگی۔لڑکی تو سحری کے وقت نہ اٹھا کر ہم خود اس وقت کام کر لیا کریں