تذکار مہدی — Page 638
تذکار مهدی ) 638 روایات سید نا محمودی غرض عام بادشاہوں کو خلیفہ ہی کہا جاتا تھا لیکن جس خلافت کا ذکر قرآن کریم میں ہے وہ مسلمانوں کی اصطلاح میں خلافتِ راشدہ کہلاتی ہے اور اس بات پر سارے مسلمان متفق ہیں کہ خلافت راشدہ حضرت علی پر ختم ہو چکی ہے۔ہاں ! اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد نئے سرے سے قائم ہوئی ہے۔لیکن یہ خلافت روحانی ہے دنیوی سلطنت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔چونکہ مص مصطفی کمال پاشا نے ایک باغی کا مقابلہ کیا اس لیے وہ جیت گیا اور انور پاشا اور اُس کی پارٹی ہار گئی۔اس نے ترکی کی پہلی حکومت کو جس میں اسلام کو کچھ نہ کچھ ترقی ہوئی تھی منزل نہیں ہوا تھا تو ڑنا چاہا۔اس لیے خدا تعالیٰ نے اُسے توڑ دیا۔مصطفی کمال پاشا نے اس حکومت کو دوبارہ کھنڈرات سے قائم کیا۔پھر اس کا نام خلافت نہیں رکھا۔اس نے ایک دنیوی حکومت قائم کر دی جو انور پاشا کی حکومت سے زیادہ بہتر ، مضبوط اور ترکوں اور عربوں کے لیے مضبوطی کا موجب تھی۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے اُس کی مدد کی اور اللہ تعالیٰ ایسے مواقع پر ہر ایک کی مدد کیا کرتا ہے۔جن لوگوں نے انگریزی تاریخیں پڑھی ہیں اور پھر سارے جھگڑوں کا مطالعہ کیا ہے جو پہلی جنگِ عظیم میں چرچل اور دوسرے وزراء میں پڑ گئے تھے وہ جانتے ہیں کہ دراصل چرچل ہی ترکی میں فوج اتارنے کا ذمہ دار تھا۔انگریزی حکومت نے ترکی میں فوجیں اتار دیں۔ترکی نے اُن کا مقابلہ کیا اور پھر یونانیوں کو جن کو اتحادیوں نے ترکی کے ملک پر قابض کر دیا تھا گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا۔غرض انور اور مصطفی کمال سے دو الگ الگ سلوک بتاتے ہیں کہ سلطان عبدالحمید کے ساتھ ایک حد تک خدائی مدد تھی۔بیشک وہ روحانی بادشاہ نہیں تھا وہ ایک دنیوی بادشاہ تھا لیکن اُس نے اسلام کی خدمت کی۔اس لیے اُس نے خدا تعالیٰ کے فضل کو بھینچ لیا۔اس نے اسلام کی سچے دل سے مدد کی تو خدا تعالیٰ نے بھی اُس کی مدد کی اور ایک طاقت ور دشمن کے مقابلہ میں اسے فتح عطا فرمائی۔خطبات محمود جلد 32 صفحہ 158-155) نیت کا ثواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک واقعہ سنایا کرتے تھے۔فرماتے ایک بزرگ تھے وہ ایک اور بزرگ کو جو دریا کے پار رہا کرتے تھے روز کھانا دینے جایا کرتے تھے ایک دن بیمار ہو گئے۔انہوں نے اپنی بیوی سے کہا آج تم کھانا پکا کر دریا کے پارفلاں بزرگ کے پاس لے جانا