تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 618 of 862

تذکار مہدی — Page 618

تذکار مهدی ) 6618 روایات سید نا محمود کا آنا ایسا ہی ہوا کرتا تھا۔جیسے کوئی مدتوں کا بچھڑا ہوا بھائی سالہا سال کے بعد اپنے کسی عزیز سے آکر ملے۔کپورتھلہ کی جماعت میں سے منشی اروڑے خان صاحب۔منشی مظفر احمد صاحب اور منشی محمد خان صاحب جب بھی آتے تھے تو ان کے آنے سے ہمیں بڑی خوشی ہوا کرتی تھی۔غرض اس دوست نے بتایا کہ منشی اروڑے خان صاحب تو ایسے آدمی ہیں کہ یہ مجسٹریٹ کو بھی ڈرا دیتے ہیں۔پھر اس نے سنایا کہ ایک دفعہ انہوں نے مجسٹریٹ سے کہا میں قادیان جانا چاہتا ہوں مجھے چھٹی دے دیں۔اس نے انکار کر دیا۔اس وقت وہ سیشن جج کے دفتر میں لگے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا قادیان تو میں نے ضرور جانا ہے۔مجھے آپ چھٹی دے دیں وہ کہنے لگا کام بہت ہے اس وقت آپ کو چھٹی نہیں دی جاسکتی۔وہ کہنے لگے بہت اچھا آپ کا کام ہوتا رہے۔میں تو آج سے ہی بددعا میں لگ جاتا ہوں۔آپ اگر نہیں جانے دیتے تو نہ جانے دیں۔آخر اس مجسٹریٹ کو کوئی ایسا نقصان پہنچا کہ وہ سخت ڈر گیا اور جب بھی ہفتہ کا دن آتا وہ عدالت والوں سے کہتا کہ آج کام ذرا جلدی بند کر دینا کیونکہ منشی اروڑے خان صاحب کی گاڑی کا وقت نکل جائے گا۔اس طرح وہ آپ ہی جب بھی منشی صاحب کا قادیان آنے کا ارادہ ہوتا انہیں چھٹی دے دیتا اور وہ قادیان پہنچ جاتے۔الفضل 28 راگست 1941 ء جلد 29 نمبر 196 صفحہ 4 تا 6 ) حضرت منشی ظفر احمد صاحب کی وفات میں اس وقت منشی ظفر احمد صاحب کی وفات اور ان کے جنازہ کا ذکر کر رہا تھا۔میں نہیں کہہ سکتا کہ ان کے جنازہ میں کتنے لوگ شامل ہوئے کیونکہ مجھے اس کے متعلق کچھ بتایا نہیں گیا۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کے ابتدائی ایام میں آپ پر ایمان لائے آپ سے تعلق پیدا کیا اور ہر قسم کی قربانیاں کرتے ہوئے اس راہ میں انہوں نے ہزاروں مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کیں۔ان کی وفات جماعت کے لئے کوئی معمولی صدمہ نہیں ہوتا۔میرے نزدیک ایک مومن کو اپنی بیوی ، اپنے بچوں، اپنے باپ، اپنی ماں، اور اپنے بھائیوں کی وفات سے ان لوگوں کی وفات کا بہت زیادہ صدمہ ہونا چاہئے اور یہ واقعہ تو ایسا ہے کہ دل اس کا تصور کر کے سخت دردمند ہوتا ہے کیونکہ منشی ظفر احمد صاحب ان آدمیوں میں سے آخری آدمی تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام