تذکار مہدی — Page 501
تذکار مهدی ) بلا دلیل اعتراض نہیں کرنا چاہئے 501 روایات سید نا محمود مولوی عبداللہ صاحب غزنوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے قریب زمانہ میں ایک مشہور بزرگ گزرے ہیں ان کا ایک لطیفہ ہے جس سے اُن کی عزت دل میں پیدا ہوتی ہے۔کہتے ہیں کہ امرتسر میں ایک دفعہ لوگوں نے مولوی عبداللہ صاحب غزنوی سے مقابلہ کرنے کیلئے ایک بڑا بھاری عالم تیار کیا جو علوم مروجہ میں خوب ماہر تھا۔اس کے بعد وہ لوگ مولوی عبداللہ صاحب کے پاس گئے اور انہیں کہا کہ آپ مجلس میں چلیے ، آپ کی فلاں عالم سے بحث کرانی ہے۔مولوی عبداللہ صاحب غزنوی بے شک عالم تھے مگر ایسے نہیں کہ انہوں نے صرف ونحو کی گردا نہیں رٹی ہوئی ہوں۔وہ ایک صوفی منش بزرگ تھے مگر لوگ چاہتے تھے کہ عربی کی ترکیبوں میں لاکر انہیں گرائیں اور ذلیل کریں۔خیر وہ مجلس میں آگئے۔لوگوں نے کہا مولوی صاحب یہ فلاں عالم صاحب آئے ہیں کیا یہ آپ سے کوئی سوال کریں؟ مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کی یہ عادت تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بھی عادت تھی کہ جب خاموش ہوتے تو سر نیچے ڈال کر یا سر کو ہاتھ کا سہارا دے کر بیٹھے رہتے اور ذکر الہی کرنے والے بالعموم ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔جب انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ آپ سے کوئی سوال کریں؟ تو مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی نے فرمایا اگر نیت بخیر باشد یعنی اگر نیت نیک ہو تو بیشک وہ سوال کریں۔وہ آدمی بھی گو بظاہر دُنیوی علماء میں شامل تھا مگر اُس کے دل میں تقویٰ کی آگ جلتی تھی۔جب انہوں نے کہا کہ اگر نیت بخیر باشد تو اُس نے سوال کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اس وقت تو میں بحث کی نیت سے ہی آیا تھا۔اور در حقیقت یہ جو اُس شخص میں تقویٰ پیدا ہوا مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کی بات کے نتیجہ میں پیدا ہوا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی ایک واقعہ ہے۔شروع شروع میں مولوی محمد حسین صاحب جب مولوی ہو کر بٹالہ آئے تو ان کے خیالات بٹالہ کے رہنے والوں کو سخت گراں گزرے۔آپ فرماتے کہ ایک دفعہ جب میں بٹالہ گیا تو چونکہ لوگوں کو میرے مذہبی جوش اور مذہبی تحقیق و تدقیق کا علم تھا اور وہ جانتے تھے کہ عیسائیوں کے متعلق میں اکثر مضامین لکھتا رہتا ہوں اور صوفیاء کی میرے دل میں عزت ہے اس لئے بعض لوگ میرے پاس آئے اور کہنے لگے آپ سے ایک ضروری کام ہے، آپ ہمارے ساتھ فلاں مسجد میں چلیں۔جب میں