تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 862

تذکار مہدی — Page 482

تذکار مهدی 482 روایات سید نا محمود بہر حال پھر کبھی ان کا ذکر نہیں سنا۔وہ بڑے اخلاص سے یہاں آئے تھے۔مگر بعد میں بعض باتوں کی وجہ سے ابتلاء آ گیا۔اور چلے گئے۔جب آئے تو اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر گورداسپور میں ایک مقدمہ شروع ہو گیا۔جو مولوی کرم دین کے مقدمہ کے نام سے مشہور ہے۔اس کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اکثر گورداسپور جانا پڑتا تھا اور آپ بعض اوقات دس دس پندرہ پندرہ دن بلکہ مہینہ مہینہ وہاں رہتے تھے۔وہ بھی ساتھ رہتے اور خواجہ کمال الدین صاحب اور دوسرے لوگ جو مقدمات کا کام کرتے تھے ان سے خوب خدمت لیتے تھے اور وہ بڑی خدمت کرتے تھے۔حتی کہ مجھے بعض لوگوں نے سنایا کہ وہ ان کے پاخانہ والے پاٹ بھی دھو دیتے تھے۔حالانکہ وہ کسی زمانہ میں اچھے تاجر اور آسودہ حال آدمی رہ چکے تھے لیکن ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجلس میں تشریف فرما تھے میں بھی وہیں تھا۔خواجہ صاحب آئے شاید اپنے لئے یا شاید ان کے ساتھ کوئی ایسا آدمی تھا جس سے وہ اچھا سلوک کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے آتے ہی کہا کہ عرب صاحب وہ چٹائی گھسیٹ کر ادھر لے آئے مگر خواجہ صاحب کا لہجہ قدرے تحکمانہ تھا اور طریق خطاب میں کچھ حقارت کا رنگ بھی تھا۔اس لئے ان کے جواب میں عرب صاحب نے باوجود یکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی وہیں تشریف رکھتے تھے۔بڑے جوش سے کہا کہ کیا میں تمہارے باپ کا نوکر ہوں۔گویا جو شخص محبت سے پاخانہ تک اٹھا دیتا تھا جب اسے خطاب کرتے وقت حکومت کا رنگ آیا تو اس کی فطرت نے بغاوت کی اور اس نے بڑے جوش سے کہا کہ کیا میں تمہارے باپ کا نوکر ہوں۔اس کے بالمقابل بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ محبت سے نہیں مانتے۔مگر جب ان کو مارا جائے تو بڑے فرمانبردار ثابت ہوتے ہیں۔مگر جونہی ان سے نرمی کا برتاؤ کیا جائے فوراً بگڑ جاتے ہیں۔اس کی بھی ایک مثال مجھے یاد آ گئی ہے وہ شخص ابھی زندہ ہے جب وہ بچہ تھا اور غالباً یتیم تھا۔ہمارے نانا جان مرحوم اس جوش میں کہ اسے پالیں گے اور اس طرح ثواب حاصل کریں گے اسے گھر میں لے آئے اور باوجود یکہ آپ کی طبیعت بڑی جوشیلی تھی ثواب حاصل کرنے کے شوق میں اس کی بہت خاطر و مدارت کرنے لگے۔اسے کھلائیں، پلائیں، اس کے لئے بستر کریں اور پھر اسے سلائیں۔ایک دو روز تو وہ ٹھیک طرح کھاتا پیتا رہا مگر تیسرے چوتھے روز اس نے بگڑنا شروع کیا۔میر صاحب مرحوم اسے کہیں کھانا کھا لو تو وہ کہے میں نہیں کھاؤں گا۔