تذکار مہدی — Page 460
تذکار مهدی ) 460 ☀ روایات سید نا محمودی مشکل مسائل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پوچھا کرتے اور اس طرح گفتگو کا موقع ملتا رہتا تھا اور بعض دوست تو عادتاً بھی سوال کر لیا کرتے اور جب بھی وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں بیٹھتے کوئی نہ کوئی سوال پیش کر دیا کرتے۔مجھے ان میں سے دو شخص جو اس کام کو خصوصیت سے کیا کرتے تھے اچھی طرح یاد ہیں۔ایک میاں معراج دین صاحب العمر جو آج کل قادیان میں ہی رہتے ہیں اور دوسرے میاں رجب الدین صاحب جو خواجہ کمال الدین صاحب کے خسر تھے۔مجھے یاد ہے مجلس میں بیٹھتے ہی یہ سوال کر دیا کرتے کہ حضور فلاں مسئلہ کس طرح ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مسئلہ پر تقریر شروع فرما دیتے۔تو جو دوست باہر سے آتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ اپنے مطالب پیش کرنے کے علاوہ مشکل مسائل دریافت کیا کریں تا کہ مجلس زیادہ سے زیادہ مفید ہو اور ان کے علاوہ دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے۔مجلس میں نہ آنے کو نفس کا بہانہ قرار دیا (خطبات محمود جلد 14 صفحہ 104 ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں نہیں آتے تھے اور اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے تھے کہ مجھ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا رعب اتنا زیادہ غالب ہے اور آپ کا ادب میرے دل میں اس قدر پایا جاتا ہے کہ میں آپ کے سامنے بیٹھ نہیں سکتا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے ایک دفعہ مجلس میں اس بات کے خلاف تقریر کی اور آپ نے فرمایا یہ نفس کا دھوکا ہے۔چونکہ ان کے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ میری مجلس میں نہ آنا ایک گناہ ہے اس لئے اس گناہ کے دکھ سے بچنے کے لئے انکے نفس نے یہ بہانا بنا لیا اور مجلس میں نہ آنے کا باعث انہوں نے ادب اور اعزاز اور رعب قرار دے دیا حالانکہ یہ نفس کی سستی اور غفلت کی علامت ہے۔کیا دوسروں کے دلوں میں ادب اور اعزاز نہیں ؟ غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پوری ایک مجلس اسی بات کے متعلق خرچ کی اور آپ نے مجلس میں نہ آنے کو نفس کا بہانہ قرار دیا۔اسی طرح اس قسم کے وگ یہ کہہ کر اپنے نفسوں کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں کہ ہم نے خدمت دین کے کاموں میں حصہ نہ لیا تو کیا ہوا ہم چندے سے سلسلہ کی زیادہ مدد کر رہے ہیں مگر یہ بھی ان کے نفسوں کا دھوکا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لا چکے ہیں اور بیعت کر چکے ہیں اور وہ یہ جانتے ہیں کہ ان