تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 862

تذکار مہدی — Page 439

تذکار مهدی ) 439 روایات سید نا محمود مطب کھلا تھا اور کام بڑے وسیع پیمانے پر جاری تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جب آپ نے واپس جانے کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا۔کیا جانا ہے آپ اسی جگہ رہیں۔پھر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ خود اسباب لینے کے لئے بھی نہیں گئے۔بلکہ کسی دوسرے آدمی کو بھیج کر بھیرہ سے اسباب منگوایا۔یہی وہ قربانیاں ہیں جو جماعتوں کو خدا تعالیٰ کے حضور ممتاز کیا کرتی ہیں اور یہی وہ مقام ہے جس کے حاصل کرنے کی ہر شخص کو جدو جہد کرنی چاہئے۔خالی فلسفیانہ ایمان انسان کے کسی کام نہیں آ سکتا۔انسان کے کام آنے والا وہی ایمان ہے جس میں عشق اور محبت کی چاشنی ہو۔فلسفی اپنی محبت کے کتنے ہی دعوی کرے ایک دلیل بازی سے زیادہ ان کی وقعت نہیں ہوتی کیونکہ اس نے صداقت کو دل کی آنکھ سے نہیں بلکہ محض عقل کی آنکھ سے دیکھا ہوتا ہے۔مگر وہ جو عقل کی آنکھ سے نہیں بلکہ دل کی نگاہ سے خدا تعالی کی طرف سے آئی ہوئی صداقت اور شعائر اللہ کو پہچان لیتا ہے۔اسے کوئی شخص دھوکا نہیں دے سکتا۔اس لئے کہ دماغ کی طرف سے فلسفہ کا ہاتھ اٹھتا ہے اور دل کی طرف سے عشق کا ہاتھ اٹھتا ہے۔الفضل 28 /اگست 1941 ء جلد 29 نمبر 196 صفحہ 7-6 حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کی بیعت مولوی برہان الدین صاحب نے حضرت صاحب سے جو پہلی دفعہ ملاقات کی ہے وہ بھی ایک لطیفہ ہی ہے۔کہتے تھے کہ میں قادیان میں آیا لیکن حضرت صاحب گورداسپور میں تھے اس لئے وہاں گیا۔جس مکان میں حضرت صاحب ٹھہرے ہوئے تھے اس کے ایک طرف باغ تھا۔حامد علی (مرحوم) دروازہ پر بیٹھا تھا اس نے مجھے (مولوی صاحب کو ) اندر جانے کی اجازت نہ دی مگر میں باغ میں چھپ چھپ کر دروازہ تک پہنچ گیا۔آہستگی سے دروازہ کھول کر جو دیکھا تو حضرت صاحب ٹہل رہے تھے اور جلدی جلدی لمبے لمبے قدم اٹھاتے تھے۔میں جھٹ پیچھے کو مڑا اور میں نے سمجھ لیا کہ یہ شخص صادق ہے جو جلدی جلدی ٹہل رہا ہے ضرور اس نے کسی دور کی منزل پر ہی پہنچنا ہے۔تب ہی تو یہ جلدی جلدی چل رہا ہے۔وہابی ہو کر مولوی صاحب کا اس قسم کا خیال کرنا عجیب ہی بات ہے ورنہ عموماً یہ لوگ خشک ہوتے ہیں۔الفضل 17 اپریل 1922 ء جلد 9 نمبر 81 صفحہ 6)