تذکار مہدی — Page 397
تذکار مهدی ) 397 روایات سید نا محمود کوئی بیس منٹ یا نصف گھنٹہ باتیں ہوتی رہیں اور میں اپنے دل میں کڑھتا رہا۔اتنے میں یکدم خواجہ صاحب نے اپنے منہ کے آگے سے وہ کتاب یا اخبار جو چیز بھی تھی ہٹادی اور میں نے دیکھا کہ ان کا رنگ اس وقت متغیر تھا۔پھر وہ سر اٹھا کے ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے یارو کوئی بات بھی ہو۔اس بات کو تم یاد رکھو کہ جو کچھ سلوک آج ہم حضرت مرزا صاحب کے بیوی بچوں سے کریں گے ہماری اولاد سے بھی خدا تعالیٰ وہی سلوک کرے گا۔میں نے جب ان کا یہ فقرہ سنا تو میرے ذہن میں یہ بات اسی وقت میخ کی طرح گڑ گئی کہ یہ بات خواجہ صاحب کی اولا دکو دنیوی لحاظ سے بچالے گی۔چنانچہ ان کی اولاد کے لئے خدا تعالیٰ نے غیر معمولی طور پر ایسے سامان پیدا فرمائے۔جنہیں سارا پنجاب غیر معمولی قرار دیتا ہے وہ اگر اس کی قدر کریں تو اور بھی ترقی کر سکتے ہیں۔ورنہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کا ایسا بدلہ دے دیا ہے کہ اگر ان کا خاندان حس رکھتا ہو تو اس سے بہت بڑی عبرت حاصل کر سکتا ہے۔اسی طرح باقی لوگ بھی جو ان کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں وہ اس سے عبرت حاصل کر سکتے ہیں۔اچھی بھی اور بُری بھی۔(الفضل 28 اگست 1941 ء جلد 29 نمبر 196 صفحہ 2) جہاں صداقت نظر آئے اسے قبول کرو ہر شخص آزاد ہے جو کوئی ان کا لٹریچر پڑھنا چاہئے بے شک پڑھے بلکہ اگر اسے صداقت نظر آئے تو اسے قبول کرے اور اس صورت میں اس کا فرض ہے کہ قبول کرے۔سچائی ہی ہے جو انسان کی نجات کا موجب ہو سکتی ہے قیامت کے دن میں کسی کے کام نہ آ سکوں گا۔اگر دین کے معاملہ میں کوئی شخص میری خاطر صداقت کو چھوڑتا ہے تو سخت غلطی کرتا ہے پس میں یہ کہہ کر بری ہوتا ہوں کہ جسے جہاں صداقت نظر آئے اسے قبول کرے اور اگر سب لوگ بھی مجھ سے الگ ہو جائیں تو مجھے اس کی پرواہ نہیں۔اگر جو میں کہتا ہوں وہ سچ نہیں تو چاہے مجھ سے اختلاف کرنا پڑے سب کا فرض ہے کہ سچ کو قبول کریں اور یہ کہہ کر میں خدا تعالیٰ کے حضور بری ہوتا ہوں۔مجھے انسانوں کی کوئی پرواہ نہیں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وفات پائی تو کسی نے کہا کہ پیشگوئی غلط نکلی۔میرے کان میں یہ بات پڑی میری عمر اُس وقت صرف انیس برس تھی۔میں سیدھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لاش کے سرہانے پہنچا اور وہاں کھڑے ہو کر خدا تعالیٰ سے اقرار کیا کہ اگر ساری جماعت بھی احمدیت کو چھوڑ جائے تو بھی میں