تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 862

تذکار مہدی — Page 396

تذکار مهدی ) کارمهدی 396 روایات سید نا محمودی ہے تا آپ کے خاندان کو معلوم ہو کہ وہ خویشوں میں سے ہیں اور اُن سے زیادہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ دین کی خدمت کریں گے۔پس تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خویشوں میں سے ہو۔تمہیں اوروں سے زیادہ دین کی خدمت کرنی چاہیے۔مجھے تو اس بات کی کبھی سمجھ ہی نہیں آسکتی کہ اگر خدا نے دین کی خدمت کا کام کرتے ہوئے دنیوی لحاظ سے مجھے اپنے فضلوں سے حصہ دیا ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میری اولاد یا اولاد در اولا د دین کی خدمت کا کام کرے اور وہ فاقہ سے مرتی رہے۔اگر وہ مومنانہ رنگ اختیار کریں تو تھوڑے روپیہ میں بھی آسانی سے گزارہ کر سکتے ہیں۔(الفضل 14 مارچ 1944 ء جلد 32 نمبر 61 صفحہ 11-12) خواجہ کمال الدین صاحب کی حق گوئی مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد صدر انجمن احمد یہ میں ایک دو دفعہ یہ سوال پیش ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے لئے گزارہ کی کیا صورت کی جائے۔میرے لئے تکلیف دہ امر یہ تھا کہ میں خود صدرانجمن احمد یہ کا نمبر تھا اور مجھے بھی وہاں جانا پڑتا تھا۔اس وقت اور ممبر بعض دفعہ اس رنگ میں بات کرتے تھے کہ جس کو بعد میں سن کر بھی تکلیف ہوتی ہے۔کجا یہ کہ انسان کے بیٹھے ہوئے کی جائے۔مگر سوائے اس کے کہ میں سن کر خاموش رہتا۔میرے لئے اور کوئی چارہ نہیں تھا۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایسی ہی باتیں ہو رہی تھیں جو تکلیف دہ تھیں۔خواجہ کمال الدین مرحوم صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔مخالفت کے لحاظ سے وہ دوسروں سے پیچھے نہیں تھے۔گو جہاں تک میرا تجربہ ہے کینہ رکھنے کے لحاظ سے وہ مولوی محمد علی صاحب سے کم تھے اور یوں ان کی ناراضگی غالباً مولوی محمد علی صاحب سے بھی زیادہ پہلے کی تھی۔مگر میں نے دیکھا ہے ان پر کبھی کبھی ایک دورہ آتا تھا جو روحانیت کے رنگ کا ہوتا تھا۔مولوی محمد علی صاحب کی طرح ان کا فلسفیانہ مذاق نہیں تھا وہاں مولوی محمد علی صاحب تھے۔ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب تھے۔مرزا یعقوب بیگ صاحب تھے اور یہ سب آپس میں اس موضوع پر باتیں کر رہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کا کتنا گزارہ ہونا چاہئے۔کوئی کہتا کہ اتنا گزارہ ہونا چاہئے اور کوئی کہتا کہ اتنا نہیں ہونا چاہیئے۔کوئی اخبار یا کوئی کتاب تھی جو خواجہ کمال الدین صاحب اس وقت لے کر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کی توجہ اسی اخبار یا کتاب کی طرف تھی۔میں حیران تھا کہ خواجہ صاحب کو تو اس بحث میں زیادہ حصہ لینا چاہیئے تھا مگر کیا بات ہے کہ وہ خاموش ہیں۔